جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ میں اسرائیل کی اسٹریٹجک ناکامی: سابق جنرل کا انکشاف

غزہ میں اسرائیل کی اسٹریٹجک ناکامی: سابق جنرل کا انکشاف
غ

تہران (مشرق نامہ) –
ایک ریٹائرڈ صہیونی جنرل نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ میں بری طرح پھنس چکی ہیں، زمینی افواج کمزور ہو چکی ہیں اور حماس کی مزاحمت کے مقابلے میں سنگین اسٹریٹجک نقصانات کا سامنا کر رہی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے سابق سینئر افسر میجر جنرل یتسحاق بریک نے اسرائیلی نیوز ویب سائٹ آروتز شیوہ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں صہیونی حکومت کی بڑھتی ہوئی عسکری کمزوری اور اسٹریٹجک ناکامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ دردناک حقیقت، جیسا کہ آئی ڈی ایف کے سینیئر افسران — جنرلز سے لے کر کمپنی کمانڈرز تک — پسِ پردہ اعتراف کر رہے ہیں، یہ ہے کہ اسرائیل ‘آئرن سورڈز’ کی جنگ کے لیے تیار ہی نہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت پہلے ہی حماس کے خلاف اپنی مہم میں ایک اسٹریٹجک شکست سے دوچار ہو چکی ہے۔

بریک نے اسرائیلی فوج کی شدید زبوں حالی کی جانب اشارہ کیا۔ ان کے مطابق، زمینی افواج "بری طرح ختم ہو چکی ہیں اور ساختی زوال کا شکار ہیں۔” انہوں نے لکھا کہ حماس کو فیصلہ کن شکست دینے میں ان کی ناکامی تو محض ایک بڑے مسئلے کا ایک پہلو ہے۔

یہ تجزیہ اسرائیل کی جاری نسل کش جنگ کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کے دوران مہینوں کی شدید بمباری اور عسکری یلغار کے باوجود اسرائیلی فوج اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جن میں حماس تحریک کا خاتمہ بھی شامل تھا۔

اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے اب تک 59 ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ مسلسل ناکہ بندی کا شکار ہے اور امدادی سامان محض چند کھیپوں تک محدود ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود فلسطینی مزاحمتی فورسز مختلف محاذوں پر صہیونی فوج کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بریک کا ماننا ہے کہ اسرائیلی قیادت مستقبل کی جنگوں کے لیے کوئی پیشگی منصوبہ بندی نہیں کر رہی۔ انہوں نے لکھا کہ جب اسرائیل غزہ کی پٹی میں بری طرح الجھ چکا ہے، اس دوران اس کی قیادت فوج کو آئندہ، اور ممکنہ طور پر کہیں زیادہ خطرناک جنگ کے لیے تیار کرنے میں ناکام ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ کمزوری صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتِ حال کو بھی ایک "بارود کا ڈھیر” قرار دیا۔

مغربی کنارے میں، جہاں اکتوبر سے تشدد میں اضافہ ہوا ہے، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اب تک تقریباً ۱،۰۰۰ فلسطینی صہیونی افواج اور آبادکاروں کے حملوں میں شہید اور ۷،۰۰۰ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم "ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز” کی رپورٹس کے مطابق، مغربی کنارے میں ۴۰ ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی حملوں کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود، بریک خبردار کرتے ہیں کہ اسرائیلی فوج کے پاس اس وقت اپنی تمام اہم دفاعی حدود کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری زمینی فورسز موجود نہیں۔

انہوں نے شمالی فلسطینِ اشغالی میں سرگرم حزب اللہ کو بھی ایک فعال مزاحمتی قوت قرار دیا اور لکھا کہ اگرچہ حزب اللہ کمزور ہوئی ہے، مگر وہ اب بھی سینکڑوں کلومیٹر طویل سرنگوں اور اتنے گولہ بارود کی مالک ہے کہ وہ شمالی اسرائیل کو مفلوج کر سکتی ہے — بالکل ویسے ہی جیسے جنگ بندی سے قبل کے دنوں میں وہ روزانہ ۱۰۰ سے زائد راکٹ فائر کر رہی تھی۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی ۲۷ نومبر ۲۰۲۴ کو عمل میں آئی تھی، لیکن اسرائیلی افواج روزانہ کی بنیاد پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

بریک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مصر اسرائیل کے ساتھ ممکنہ جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، خفیہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصری فوج اسرائیل کے ساتھ ممکنہ تصادم کے لیے تیاریوں میں مصروف ہے، جبکہ اسرائیلی افواج کے پاس اس خطرے کا مؤثر جواب دینے کے لیے درکار افرادی قوت موجود نہیں۔ انہوں نے اردن کی سرحد پر بھی بعض مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔

مزید برآں، انہوں نے حالیہ ایران اسرائیل جنگ کی جانب بھی اشارہ کیا اور لکھا، ایران تیزی سے اپنی میزائل صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

یہ تبصرہ ایسے پس منظر میں سامنے آیا ہے جب ۱۳ جون کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جس میں ۱،۰۶۰ سے زائد ایرانی شہید ہوئے، جن میں سینئر عسکری کمانڈرز، سائنس دان اور عام شہری شامل تھے۔ اس کے ایک ہفتے بعد امریکہ نے ایران کی تین ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی۔ اس کے ردِ عمل میں ایران نے نہ صرف مقبوضہ فلسطین میں اہم اسرائیلی مراکز کو نشانہ بنایا بلکہ قطر میں امریکی فوجی اڈے پر بھی جوابی کارروائی کی۔ ۲۴ جون کو ان جوابی حملوں کے ذریعے ایران نے اسرائیل اور امریکہ کی دہشت گردانہ جارحیت کو مؤثر طور پر روک دیا۔

بریک نے آخر میں خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی فوج ان ابھرتے ہوئے خطرات کے لیے تیار نہ ہوئی، تو اگلی جنگ ناقابلِ تصور حد تک تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین