لکن ہیتھ اڈے پر نیوکلیئر بموں کی تعیناتی پر شفافیت، خودمختاری اور ممکنہ جنگ کے خدشات شدت اختیار کر گئے
لندن (مشرق نامہ) – امریکہ نے ایک خفیہ عسکری مشن کے دوران مہلک جوہری ہتھیار برطانیہ کے رائل ایئر فورس (RAF) لکن ہیتھ اڈے پر منتقل کر دیے، جس پر نیٹو کی ایٹمی حکمتِ عملی، برطانوی خودمختاری، اور ممکنہ ایٹمی تصادم کے بارے میں سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ انکشاف Declassified UK اور نیوک واچ UK نے کیا۔
17 جولائی کو امریکی فضائیہ کے C-17 Globemaster ٹرانسپورٹ طیارے (پرواز RCH4574) نے لکن ہیتھ میں لینڈ کیا، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایسے ایٹمی ہتھیار لایا ہے جن کی تباہی کی طاقت ہیروشیما پر گرائے گئے بم سے تین گنا زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ جوہری ہتھیار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مکمل کنٹرول میں ہیں اور انہیں برطانوی حکومت کی اجازت کے بغیر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایٹمی بموں کی منتقلی کی تفصیلات
نیوک واچ UK نے اس پرواز کی تفصیل سے نگرانی کی۔ یہ طیارہ 15 جولائی کو امریکی ریاست واشنگٹن کے لیوس-مک کورڈ ایئرفورس بیس سے روانہ ہوا اور نیو میکسیکو میں کرٹ لینڈ ایئربیس پر رکا، جہاں امریکی ایئر فورس کا سب سے بڑا جوہری ذخیرہ اور مرمتی مرکز موجود ہے۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہیں پر طیارے میں 20 کے قریب B61-12 قسم کے جدید ایٹمی بم لوڈ کیے گئے، جو ہدف پر انتہائی درستگی کے ساتھ مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بم لوڈ کرنے کا عمل انتہائی سخت سیکیورٹی میں مکمل ہوا۔ طیارے کو خطرناک سامان کے لیے مخصوص جگہ پر رکھا گیا اور فضا و زمین سے اس کی مکمل نگرانی کی گئی۔ پائلٹ نے ہوائی ٹریفک کنٹرول کو "خطرناک کارگو” کی موجودگی سے مطلع بھی کیا۔
برطانیہ آمد اور سیکیورٹی انتظامات
پرواز کے دوران، طیارے نے دو KC-46 ٹینکرز سے فضائی ایندھن حاصل کیا، جبکہ ایک دوسرا C-17 طیارہ بھی متبادل کے طور پر روانہ ہوا جو جرمنی کے رامشٹائن بیس سے ہوتا ہوا لکن ہیتھ پہنچا، اور ممکنہ طور پر جوہری ہنگامی سامان لے کر آیا۔
لکن ہیتھ پہنچنے پر طیارے کو ’وِکٹر ریمپ‘ نامی حساس زون میں کھڑا کیا گیا۔ امریکی فضائیہ کے اہلکاروں اور سادہ لباس سیکیورٹی ایجنٹس نے بیس کی کڑی نگرانی کی، فائر بریگیڈ بھی الرٹ رہی، اور بموں کو اتارنے کے لیے خاص فضائی مشینری استعمال کی گئی۔ بموں کو قریبی سخت حفاظت والے ہوائی جہازوں کے شیڈ میں منتقل کر دیا گیا، اور بیس کے گرد 2.5 ناٹیکل میل کا نو فلائی زون نافذ کر دیا گیا۔
18 جولائی کو طیارہ واپس امریکہ روانہ ہو گیا۔
سیاق و سباق اور ممکنہ اثرات
RAF لکن ہیتھ میں امریکی F-15E اور F-35A طیارے تعینات ہیں، جو B61-12 بم لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ 2008 میں یہاں سے ایٹمی ہتھیار ہٹا دیے گئے تھے، مگر 2022 سے بیس میں جوہری حوالے سے اہم اپ گریڈ جاری ہیں جن میں محفوظ شیڈز اور خصوصی عملے کے لیے ہاؤسنگ شامل ہیں۔
یہ مشن 62nd ایئرلفٹ وِنگ کے تحت انجام دیا گیا، جو نیٹو بیسز پر جوہری مواد کی ترسیل کے خصوصی مشن انجام دیتی ہے۔ حالیہ عرصے میں ان مشنز میں تیزی آئی ہے۔
جون 2025 میں لکن ہیتھ پر ایک بڑی سیکیورٹی مشق بھی کی گئی، جسے اس تعیناتی کی تیاری تصور کیا جا رہا ہے۔ پرواز سے چند روز قبل عملے کو ایک "خاموش گھنٹے” کے دوران اس مشن کی اطلاع دی گئی۔
برطانیہ کے لیے ممکنہ خدشات
نیوک واچ کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی برطانوی حکومت کی جانب سے رائل ایئر فورس کے لیے جوہری صلاحیت رکھنے والے F-35A طیاروں کی خریداری سے آزاد ہے۔ برطانیہ نے یہ طیارے تاحال حاصل نہیں کیے اور ان کے لیے امریکی تربیت اور منظوری درکار ہے۔
اس کے باوجود، ان بموں کی موجودگی کے بارے میں برطانوی حکام کو کتنا علم ہے، یہ واضح نہیں۔ نیوک واچ نے خبردار کیا ہے کہ ان ہتھیاروں کی موجودگی برطانیہ اور یورپ کو جوہری تصادم یا حادثے کی سنگین زد میں لے آتی ہے۔
جمہوری احتساب پر سوالات
سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں نے اس تعیناتی سے عوام یا منتخب اداروں کو باخبر نہیں کیا۔ اس خفیہ انداز سے ہونے والے پرائم نیوکلیئر ایئرلفٹ مشن نہ صرف شفافیت اور جمہوری احتساب پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ نیٹو کی بدلتی ہوئی جوہری حکمت عملی پر بھی نئی بحث چھیڑتے ہیں۔
ان مشنز کے تحت آئندہ بھی جوہری مواد، جیسے ٹریٹیم (ایک تابکار گیس جو ایٹمی دھماکے کی شدت بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے)، مرمتی عملہ اور ہنگامی ٹیمیں یورپ منتقل کی جاتی رہیں گی۔
ان اقدامات سے خطے میں نہ صرف عسکری دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ یورپ کو ممکنہ ایٹمی میدانِ جنگ بنانے کی بنیادیں بھی رکھی جا رہی ہیں۔

