مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– یونان کے سائکلادک جزیرے سیروس پر ۱,۶۰۰ اسرائیلی شہریوں کو لے کر آنے والے کروز شپ کراؤن آئرس کے مسافروں کو بحفاظت خدشات کے پیش نظر جزیرے پر اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جزیرے پر ۳۰۰ سے زائد مظاہرین نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینیوں کے ساتھ اس کے سلوک پر شدید احتجاج کیا اور "نسل کشی بند کرو” کے الفاظ پر مشتمل بینر کے ساتھ فلسطینی پرچم بلند کیے۔
مظاہرین نے اپنے ایک بیان میں اسرائیل کے ساتھ یونان کے بڑھتے ہوئے "معاشی، تکنیکی اور عسکری” تعلقات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ہم سیروس کے باسی ہونے کے ساتھ ساتھ انسان ہونے کی حیثیت سے ایک ایسے قتل عام کو روکنے کے لیے اقدام کر رہے ہیں جو ہمارے پڑوس میں جاری ہے۔
چشم دید گواہوں کے مطابق، بحری جہاز پر موجود بعض اسرائیلی مسافروں نے اس کے ردعمل میں اسرائیلی پرچم بلند کیے اور قومی نعرے لگائے۔
اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسرائیلی شپنگ کمپنی مانو میری ٹائم نے کہا کہ جہاز سیروس پہنچا تو فلسطینی حامی مظاہرین کا سامنا ہوا، جس کے باعث مسافر بغیر اجازت جہاز سے نہیں اتر سکے۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈیون سار نے اس معاملے پر اپنے یونانی ہم منصب جارج جیراپیٹریٹس سے رابطہ کیا، جس کی یونانی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی تاہم گفت و شنید کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
حالیہ برسوں میں یونان اسرائیلی سیاحوں کے لیے مقبول مقام بن چکا ہے، جو دونوں ممالک کے مابین گہرے ہوتے تعلقات کا عکاس ہے۔ اگرچہ اس احتجاج کے دوران کوئی گرفتاری یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، تاہم یہ واقعہ یونان میں اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں پر بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کو واضح کرتا ہے۔ ملک بھر میں اسرائیل مخالف وال چاکنگ اور فلسطینیوں کے حق میں پوسٹرز کی بھرمار بھی اسی رجحان کا مظہر ہے۔

