جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیAOC کی صیہونیت نوازی بے نقاب

AOC کی صیہونیت نوازی بے نقاب
A

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)چند روز قبل، امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو-کورتیز (AOC) نے ایک ایسی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جو اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو امریکی ٹیکس دہندگان سے 500 ملین ڈالر کی اضافی فوجی امداد کی فراہمی روکنے سے متعلق تھی۔ اس قرارداد کو ریپبلکن رکن مارجوری ٹیلر گرین نے پیش کیا تھا اور AOC کی اپنی "ترقی پسند” ٹیم کی ارکان، رشیدہ طلیب اور الہان عمر نے اس کی حمایت کی۔ AOC پر فوراً تنقید شروع ہو گئی—اور بجا طور پر۔

امریکہ کئی دہائیوں سے اسرائیلی فوجی نظام کو اربوں ڈالر کی امداد دیتا آیا ہے، جو نہ صرف غزہ میں نسل کشی بلکہ ایران سمیت دیگر ممالک پر جارحیت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران اسرائیل نے فلسطین، لبنان، ایران، شام اور یمن پر حملے کیے، جن میں 1000 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔

AOC نے اپنے عمل کا دفاع کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا، جو درحقیقت لبرل صیہونیت کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا:
"مارجوری ٹیلر گرین کی ترمیم نہ تو اسرائیل کی جارحانہ امداد بند کرتی ہے اور نہ ہی غزہ میں استعمال ہونے والے امریکی اسلحے کا بہاؤ روکتی ہے۔ میں نے اس کے خلاف ووٹ دیا، کیونکہ یہ صرف ‘آئرن ڈوم’ جیسے دفاعی نظام کو متاثر کرتی ہے۔”

یہ مؤقف حقائق کے منافی ہے۔ اسرائیل خود جارح ہے—اس نے حالیہ دنوں میں پانچ ممالک پر حملے کیے۔ ایران پر 13 جون کو بلا اشتعال جنگ مسلط کی، جو بارہ دن جاری رہی۔ شام اور یمن پر بمباری کی، اور لبنان کے ساتھ سیزفائر کی خلاف ورزیاں کیں۔ سب سے بڑھ کر، غزہ میں جاری نسل کشی کو تقریباً دو سال ہو چکے ہیں۔

لہٰذا، دفاعی اور جارحانہ امداد میں کوئی اخلاقی فرق نہیں۔ دفاعی نظام جیسے ‘آئرن ڈوم’ اسرائیل کو خطے بھر میں ظلم جاری رکھنے کے لیے تحفظ دیتے ہیں۔ امریکی تجزیہ کار کیٹلن جانسٹون نے اس کو یوں بیان کیا:”میں نے شوٹر کو گولیاں نہیں دیں، صرف بلٹ پروف جیکٹ دی تاکہ کوئی اسے روک نہ سکے۔

AOC نے مزید کہا کہ وہ معصوم جانوں کے ضیاع کے خلاف ہیں، لیکن Iron Dome جیسے دفاعی نظام شہری علاقوں میں نصب ہوتے ہیں—اور اکثر ملٹری انفرااسٹرکچر یا انٹیلیجنس مراکز کے قریب۔ اسلحہ کی تقسیم، رہائشی علاقوں کو عسکری ڈھانچوں میں تبدیل کرنا، سب قابض اسرائیلی ریاست کی سوچی سمجھی پالیسی ہے۔

بیان کے آخر میں AOC لکھتی ہیں کہ وہ غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے امریکی اسلحہ کی ترسیل بند کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن اگر وہ واقعی سنجیدہ ہوتیں تو حماس، اسلامی جہاد، یا ایرانی پاسدارانِ انقلاب جیسے گروہوں سے دہشتگرد کا لیبل ہٹانے کی قانون سازی کرتیں—جو اسرائیلی مظالم کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔

یہ کوئی وقتی لغزش یا غلطی نہیں، بلکہ AOC کی شعوری سیاست کا حصہ ہے۔ AOC اور دیگر نام نہاد ترقی پسند امریکی نظام میں محض ظاہری اختلافی آواز بن کر سامراجی اہداف کو نئے پیکج میں بیچنے کا کام کرتے ہیں۔ ان کا مقصد سچ میں مزاحمت کرنا نہیں، بلکہ سامراجیت اور صیہونیت کو ’انسانی حقوق‘ کے لبادے میں جائز قرار دینا ہے۔

ان کی ماضی کی ووٹنگ ریکارڈز دیکھیں تو وہ شام پر پابندیاں، ایران پر تنقید اور امریکی مداخلت کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ AOC جیسے سیاستدان عوام کے نمائندے نہیں بلکہ مخصوص مفادات کے ترجمان ہیں۔

امریکی عوام کو اب اس نمائندگی کے دائرے سے باہر سوچنا ہو گا، ورنہ مایوسی ان کی سیاست کا مستقل مقدر رہے گی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین