مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے برطانیہ اور دیگر 24 ممالک کی جانب سے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے مطالبے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم ساتھ ہی زور دیا ہے کہ صرف بیانات کافی نہیں، بلکہ اسرائیل کی بھوک پر مبنی پالیسی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان ممالک کے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے اور فلسطینی شہریوں، خصوصاً بچوں، کی امداد کے حصول کے دوران شہادت کی مذمت کی گئی ہے۔ حماس نے اس بیان کو ایک مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ یہ اسرائیل کے جرائم کا عالمی سطح پر اعتراف ہے۔ تاہم، تنظیم نے زور دیا کہ اس بحران کے خاتمے، امداد کی بلاتعطل فراہمی، اور اسرائیلی جنگی جرائم پر احتساب کے لیے عالمی برادری کو فوری اور مؤثر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

