تہران(مشرق نامہ):ایرانی مرکزی بینک (CBI) کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، ایران کی معیشت نے کیلنڈر سال کے اختتام (20 مارچ 2025) تک 3.1 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران ایران کا مجموعی قومی پیداوار (GDP) 78,443.8 کھرب ریال (تقریباً 301 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گیا۔ یہ اعداد و شمار 2022 کے ابتدائی مقررہ نرخوں کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں، جب ایک امریکی ڈالر کی قیمت 260,000 ریال تھی، جبکہ موجودہ آزاد مارکیٹ میں ڈالر 880,000 ریال تک جا پہنچا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق آزاد مارکیٹ کے نرخوں کو مدِنظر رکھا جائے تو معیشت کی حقیقی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جب کہ گزشتہ سال یہ شرح 5.0 فیصد تھی۔
ادارے کے مطابق غیر تیل شعبے میں بھی 3.0 فیصد کی ترقی ریکارڈ کی گئی، جو پابندیوں کے باوجود ایک مثبت اشاریہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مارچ 2025 تک کے سہ ماہی عرصے میں ایران کی GDP 18,412.5 کھرب ریال تک جا پہنچی، جو دسمبر 2024 تک کے سہ ماہی عرصے سے 3.2 فیصد زیادہ ہے۔
سال بھر میں تیل و گیس کا شعبہ سب سے زیادہ بہتر کارکردگی کا حامل رہا، جہاں 4.6 فیصد کی ترقی دیکھی گئی، جبکہ سروسز سیکٹر میں 3.9 فیصد کی شرح نمو ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل پابندیوں کے باوجود، تیل کی برآمدات میں اضافہ اور معاشی تنوع پر مبنی پالیسیوں نے ایران کی معیشت کو سہارا دیا ہے۔
ایران نے 2020 کی دوسری ششماہی سے اب تک مسلسل معاشی بہتری کی رپورٹ دی ہے، جو امریکہ کی جانب سے تیل برآمدات پر عائد پابندیوں کے اثرات سے نکلنے کی علامت ہے۔
اگر آپ اس کا خلاصہ نکات کی صورت میں یا اردو گراف کے ساتھ چاہتے ہیں تو میں فراہم کر سکتا ہوں۔

