جمعرات, فروری 19, 2026
ہومپاکستانمالی سال 25: پاکستان کو 12.14 ارب ڈالر کی غیر ملکی فنڈنگ

مالی سال 25: پاکستان کو 12.14 ارب ڈالر کی غیر ملکی فنڈنگ
م

اسلام آباد(مشرق نامہ):وزارتِ اقتصادی امور کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب 14 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی فنڈنگ موصول ہوئی۔ تاہم اگر آئی ایم ایف کی دو اقساط میں ملنے والے 2 ارب ڈالر سے زائد کو بھی شامل کیا جائے تو مجموعی فنانسنگ کا حجم 14 ارب 14 کروڑ ڈالر بنتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2025 کے لیے 19 ارب 39 کروڑ ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کا تخمینہ لگایا تھا، جس کے مقابلے میں موصول ہونے والی رقم نمایاں طور پر کم رہی۔
جبکہ گزشتہ مالی سال 2023-24 میں پاکستان کو 9 ارب 81 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی فنڈنگ حاصل ہوئی تھی، جس کے مقابلے میں حالیہ برس کچھ بہتری ضرور آئی، لیکن ہدف کے مطابق فنانسنگ حاصل نہ ہو سکی۔

رپورٹ کے مطابق صرف جون 2025 کے مہینے میں 5 ارب 25 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی فنانسنگ حاصل ہوئی، اور پورے سال کے دوران مجموعی طور پر 11 ارب 92 کروڑ ڈالر کا قرض لیا گیا۔
علاوہ ازیں، پاکستان کو سال بھر میں 22 کروڑ ڈالر کی گرانٹس (غیر واپسی مالی امداد) بھی موصول ہوئیں۔

تاہم رپورٹ میں اہم نکتہ یہ ہے کہ وزارتِ اقتصادی امور نے سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سے حاصل ہونے والے رول اوور قرضوں اور ڈپازٹس کو اس فنڈنگ میں شامل نہیں کیا۔
یہ بھی واضح کیا گیا کہ گزشتہ مالی سال کی مجموعی فنانسنگ میں سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر اور چین کے 4 ارب ڈالر کے سیف ڈپازٹس شامل نہیں کیے گئے، حالانکہ دونوں ممالک سے 9 ارب ڈالر کے قریب ڈپازٹ کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی بڑی حد تک بیرونی مالی معاونت ان رول اوورز اور دوستانہ ممالک کی جانب سے فراہم کردہ ڈپازٹس پر منحصر ہے، جسے تکنیکی طور پر "قرض کی تجدید” شمار کیا جاتا ہے نہ کہ نئی فنانسنگ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیرونی فنڈنگ میں معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن قرضوں پر انحصار اور مطلوبہ ہدف تک عدم رسائی معاشی پالیسی کے لیے چیلنجز کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر جب قرضوں کی واپسی اور زرمبادلہ ذخائر کو برقرار رکھنے کا دباؤ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین