جمعرات, فروری 19, 2026
ہومپاکستانسی پیک: دوسرا مرحلہ بزنس ٹو بزنس تعاون پر مبنی ہوگا

سی پیک: دوسرا مرحلہ بزنس ٹو بزنس تعاون پر مبنی ہوگا
س

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا دوسرا مرحلہ اب حکومتی سطح سے نکل کر بزنس ٹو بزنس (B2B) بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ نجی شعبہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری میں فعال اور مرکزی کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نئے ماڈل کے تحت دونوں ملکوں کے نجی ادارے براہِ راست سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور تجارتی سرگرمیوں میں شامل ہوں گے، جو دیرپا اور متوازن ترقی کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں خاص طور پر خصوصی اقتصادی زونز، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، اور صنعتی ترقی پر توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ پاکستان کی برآمدات، روزگار کے مواقع، اور مقامی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

وزیراعظم نے چینی باشندوں اور کمپنیوں کی سیکیورٹی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجود چینی کارکنوں، ماہرین اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے فول پروف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ سی پیک منصوبوں میں شامل تمام چینی شراکت داروں کو محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات آزمائے ہوئے ہیں، اور سی پیک کا دوسرا مرحلہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط کو مزید گہرا اور مستحکم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ مشترکہ کوششوں سے پاکستان میں صنعتی، زرعی اور ڈیجیٹل ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، جو نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط کریں گی بلکہ خطے میں استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی مددگار ثابت ہوں گی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین