تحریر: محمد حسین محمدی
ایران میں معاشی سفارت کاری نے دیگر ترقی پذیر ممالک کی مانند ایک پیچیدہ اور نشیب و فراز سے بھرپور راستہ طے کیا ہے۔ ماضی میں جہاں معاشی سفارت کاری محض تجارتی مذاکرات اور دوطرفہ معاہدوں تک محدود تھی، آج کی دنیا معیشت محور سفارت کاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس ارتقا میں رویوں اور طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ تاہم، ایران اندرونی ساختی مسائل اور بیرونی رکاوٹوں، خاص طور پر پابندیوں کے باعث، اس صلاحیت سے مکمل طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ یہ مضمون روایتی معاشی سفارت کاری سے معیشت محور سفارت کاری کی منتقلی، کامیاب عالمی مثالوں، اور ایران کے لیے قابلِ عمل راہکاروں کا جائزہ لیتا ہے، جس میں عینی شواہد اور تازہ اعداد و شمار کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
معاشی سفارت کاری کا مختصر پس منظر
معاشی سفارت کاری، یعنی سیاسی اور سفارتی ذرائع سے معاشی اہداف کا حصول، صدیوں پرانی تاریخ رکھتی ہے۔ سترہویں صدی کی ڈچ اور برطانوی تجارتی سلطنتوں سے لے کر جدید تجارتی معاہدوں تک، معیشت ہمیشہ سفارت کاری کا حصہ رہی ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد معاشی سفارت کاری کا محور زیادہ تر تیل کی برآمدات اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات پر رہا۔ لیکن 1990 کی دہائی کے بعد سے بین الاقوامی پابندیوں نے اس عمل کو متاثر کیا، اور موجودہ حالات میں اس پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت مزید اجاگر ہو چکی ہے۔
معاشی سفارت کاری کے جدید رجحانات
آج کی دنیا میں معیشت محور سفارت کاری کا ظہور ہو چکا ہے۔ اس طرزِ عمل میں سفارت کاری مکمل طور پر معیشت کے خدمت گزار کے طور پر کارفرما ہوتی ہے، جس کا مقصد باہمی انحصار پیدا کرنا، مشترکہ مفادات کے ذریعے سلامتی کو فروغ دینا، اور علاقائی ویلیو چینز کو وسعت دینا ہے۔ ایران کے ہمسایہ اور ہم سطح ممالک جیسے ترکی، متحدہ عرب امارات اور بھارت اس منتقلی کی کامیاب مثالیں پیش کرتے ہیں۔
ترکی نے گزشتہ دہائی میں اپنی سفارت کاری کو شدید حد تک معیشت محور کر لیا ہے۔ 2024 میں ترکی کی برآمدات 261 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 2020 کے 169 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ترکی نے غیرملکی تجارت کے لیے مرکزی ادارے جیسے "ترک غیرملکی تجارتی کونسل” قائم کیے، جس سے خارجہ پالیسی اور معاشی اہداف میں ہم آہنگی بڑھی۔ 2025 تک ترکی نے 29 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کیے، جن کے ذریعے اس نے نئی منڈیاں حاصل کیں— جو اس کی سفارت کاری میں معیشت کے مرکزی کردار کو ثابت کرتے ہیں۔
جنوبی ہمسایہ متحدہ عرب امارات نے معیشت محور سفارت کاری پر توجہ مرکوز کر کے خود کو خطے کا لاجسٹک اور مالیاتی مرکز بنا لیا ہے۔ 2024 میں اس کی غیرنفتی تجارت 700 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ جدید بینکاری نظام اور آزاد تجارتی زونز کے قیام کے ذریعے یہ ملک ایران پر پابندیوں کے باوجود علاقائی تجارت میں ثالثی کا کردار ادا کر کے بھاری منافع حاصل کر رہا ہے۔
بھارت نے معیشت محور سفارت کاری کے ذریعے افریقی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دی۔ نتیجتاً 2025 میں بھارت کی آئی ٹی سروسز کی برآمدات 200 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اس کی ڈیجیٹل سفارت کاری اور مشترکہ پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری کا ثمر ہیں۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ معیشت محور سفارت کاری، ویلیو چینز کے قیام اور کسی ایک بازار پر انحصار ختم کر کے پائیدار اقتصادی ترقی اور برآمدی آمدن میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔
معیشت محور سفارت کاری: تصور اور اہمیت
معیشت محور سفارت کاری کا مطلب ہے کہ معیشت کو خارجہ پالیسی کے ہر پہلو میں مرکزی حیثیت دی جائے۔ یہ روایتی معاشی سفارت کاری سے مختلف ہے، جہاں معیشت سفارت کاری کا ایک ذیلی جزو تھی۔ اس نئے طریقہ کار میں سفارت کاری ایک ایسا ذریعہ بن جاتی ہے جس کے ذریعے اقتصادی اہداف حاصل کیے جاتے ہیں، نہ کہ معیشت سفارت کاری کا تابع ہو۔
یہ طرزِ فکر باہمی مفادات کی تخلیق، دو طرفہ انحصار کے فروغ اور معیشت کے ذریعے سلامتی کے قیام پر زور دیتا ہے۔ ایران جیسے پابندیوں کے شکار اور ساختی و انتظامی مسائل سے دوچار ملک کے لیے یہ تصور دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم ہے۔ تاہم، اس راستے میں متعدد چیلنجز درپیش ہیں:
اول، بین الاقوامی پابندیاں ہیں۔ جب تک ایران کے مالیاتی اور بینکاری روابط عالمی اداروں کے ساتھ معمول پر نہیں آتے، خاطرخواہ نتائج کا حصول مشکل رہے گا۔ اگرچہ کچھ مواقع اب بھی موجود ہیں، لیکن ایران نے ان سے مکمل استفادہ نہیں کیا۔ روس، عمان اور چین جیسے ممالک، جو امریکہ کی دھمکیوں سے کم متاثر ہوتے ہیں، ایران کے کلیدی تجارتی شراکت دار بن سکتے ہیں۔ یہ مواقع ترجیحی تجارتی معاہدوں سے لے کر بنیادی ڈھانچے کی مالی اعانت جیسے امکانات تک محیط ہیں۔
دوم، داخلی ساختی اصلاحات کی کمی ہے۔ ایران میں تاحال معاشی سفارت کاری کی کوئی مؤثر و متحد آواز نہیں ہے۔ وزارت خارجہ سے لے کر وزارت صنعت، معدن و تجارت تک مختلف ادارے متفرق انداز میں کام کرتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ایک آزاد "تجارتی خارجہ ادارہ” یا ایک چھوٹی وزارت، جسے خصوصی اختیارات حاصل ہوں اور جو پارلیمان کے سامنے جواب دہ ہو، تشکیل دینا ایک مؤثر قدم ہو سکتا ہے۔
دنیا کے کامیاب ممالک میں تجارتی خارجہ ادارے
عالمی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب معیشت محور سفارت کاری رکھنے والے ممالک اکثر ایک مربوط تجارتی خارجہ ڈھانچہ رکھتے ہیں۔ جنوبی کوریا میں وزارتِ تجارت، صنعت و توانائی معاشی سفارت کاری میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ 2024 میں اس کی برآمدات 680 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 2022 کے مقابلے میں 12 فیصد اضافہ ہے۔ اس وزارت نے ٹیکنالوجی اور گاڑیوں کی برآمدات پر توجہ دے کر جنوبی کوریا کو عالمی ویلیو چینز میں ممتاز مقام دلایا۔
سنگاپور میں اقتصادی ترقیاتی بورڈ غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور تجارت کو وسعت دینے کا ذمہ دار ہے۔ 2025 میں سنگاپور کی غیرملکی تجارت 1.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچی، جو معیشت کو سفارت کاری میں مرکزی حیثیت دینے، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تجارتی معاہدوں کا نتیجہ ہے۔ سنگاپور کے پڑوس میں واقع ملائیشیا نے "تجارتی ترقیاتی ایجنسی” بنا کر اپنی غیرنفتی برآمدات کو 2020 کے 200 ارب ڈالر سے 2024 میں 280 ارب ڈالر تک بڑھا دیا۔ اس ادارے نے نئی منڈیوں کی شناخت اور برآمدات کے لیے مراعات دے کر کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ایران میں بھی ایسا ڈھانچہ قائم کیا جا سکتا ہے، جو پالیسی سازی اور عمل درآمد کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے، فیصلہ سازی کی تقسیم کو ختم کرے، اور اگر ایران کی اعلیٰ حکمرانی کی حکمت عملیوں میں معیشت کو سفارت کاری کا محور بنایا جائے، تو یہ ہدف قابل حصول اور مؤثر ہو سکتا ہے۔
ایران میں رکاوٹیں اور مواقع
اگرچہ مکمل پابندیوں کا خاتمہ اور مالیاتی اداروں سے معمول کے تعلقات بڑے کامیابیوں کے لیے ضروری ہیں، لیکن داخلی اصلاحات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایرانی معیشت تاحال ایک مربوط معیشت محور سفارت کاری کی حکمت عملی سے محروم ہے۔ پالیسی سازوں کی نظر میں معیشت سیاست اور سلامتی سے جدا ہے، حالانکہ آج کی دنیا میں معیشت ہی سفارت کاری کی بنیاد ہے۔
چین نے "ایک پٹی، ایک راستہ” منصوبے سے اپنے سیاسی اور سلامتی کے اثر و رسوخ کو معیشت کے ذریعے بڑھایا ہے، اور سفارت کاری و معیشت کو یکجا کر کے عالمی معیشت میں اپنی نئی شناخت بنائی ہے۔ ایران نے "شنگھائی تعاون تنظیم” اور "یوریشین اکنامک یونین” جیسے اداروں میں بھی اپنی موجودہ صلاحیتوں سے کم فائدہ اٹھایا ہے۔ نئے اداروں کے قیام کے بجائے ان تنظیموں میں ایران کے کردار کو مؤثر بنانا زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
2024 میں ایران کی یوریشین یونین ممالک کو برآمدات 2.3 ارب ڈالر رہیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 15 فیصد اضافہ ہے، تاہم یہ اب بھی صلاحیتوں سے بہت کم ہے۔ آزاد تجارتی معاہدوں کے مکمل اطلاق سے اس میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ عالمی سطح پر ایران کی اقتصادی شناخت (برانڈنگ) کی کمی ہے، جو ایران کی سفارت کاری میں معیشت کے کمزور مقام کی نشاندہی کرتا ہے۔ دنیا میں ایران کی صلاحیتوں کا شعور محدود ہے، حالانکہ ایران تاریخی تہذیب، وسائل اور انسانی سرمایے سے مالا مال ہے۔ معیشت محور سفارت کاری، خطے میں مشترکہ منصوبوں جیسے بندرگاہ چابہار کی ترقی یا خلیج فارس میں توانائی تعاون پر توجہ دے کر ایران کی عالمی تصویر کو بہتر بنا سکتی ہے۔
عملی منصوبے اور مستقبل کا منظرنامہ
معیشت محور سفارت کاری زمینی حقائق اور موجود مواقع کی بنیاد پر عملی منصوبوں کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ منصوبے شراکت داروں کی ضروریات اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیے جانے چاہئیں۔ ایران، مثال کے طور پر، عمان کے ساتھ گیس ٹرانزٹ پر مشترکہ سرمایہ کاری سے علاقائی ویلیو چین تشکیل دے سکتا ہے۔ اسی طرح، روس، چین اور وینزویلا جیسے ممالک کے ساتھ تجارتی ادائیگیوں کے لیے بینکاری ڈھانچے کو مضبوط کر کے دو طرفہ اور علاقائی تجارت کو سہولت دی جا سکتی ہے۔
بالآخر، ایران میں معیشت کو سفارت کاری کا صرف ایک جزو نہیں بلکہ اس کا مرکز و محور بنایا جانا چاہیے۔ یہ تبدیلی، ساختی اصلاحات، موجود مواقع پر توجہ، اور علاقائی تنظیموں میں ایران کے کردار کے استحکام سے مشروط ہے۔ معیشت محور سفارت کاری باہمی مفادات اور ویلیو چینز کے ذریعے نہ صرف اقتصادی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ ایران کی علاقائی و عالمی حیثیت کو بھی تقویت دے سکتی ہے۔ مگر یہ ہدف، داخلی ہم آہنگی، بیرونی رکاوٹوں کے خاتمے اور مربوط منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں۔

