مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– امریکہ کی جانب سے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان مجوزہ زمینی راہداری کا کنٹرول سنبھالنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد دونوں قفقازی ممالک کے مابین طویل عرصے سے تعطل کا شکار سفارتی مذاکرات کو بحال کرنا ہے۔ ترک صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکہ کے سفیر ٹام بیراک نے اس بات کی تصدیق کی۔
اگرچہ رواں برس مارچ میں آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم باکو اب بھی معاہدے پر دستخط کرنے سے قبل کئی اضافی شرائط پر اصرار کر رہا ہے۔
اس معاملے اور امریکہ کے اہداف کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے تابناک نے یونیورسٹی آف ساؤتھ الاباما کے پروفیسر ایمریطس اور ممتاز سیاسی ماہر ڈاکٹر نادر انتصار سے رابطہ کیا۔
ذیل میں ان سے کیا گیا مکمل انٹرویو پیش ہے:
سوال: امریکہ کہتا ہے کہ وہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن قائم کرنا چاہتا ہے۔ درحقیقت اس کے کیا اہداف ہیں؟
دو بنیادی جغرافیائی و سیاسی مفادات ہیں جنہیں امریکہ یہاں فروغ دینا چاہتا ہے۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ ایران کو قفقاز اور وسطی ایشیا سے مزید کاٹ دیا جائے اور اس کے گرد گھیرا مزید سخت کر دیا جائے۔ دوسرا ہدف یہ ہے کہ باکو اور یریوان دونوں کو ماسکو سے دور کر دیا جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روس اور ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ماسکو کی توجہ یوکرین کی جنگ پر مرکوز ہے۔
سوال: اس امریکی تجویز سے امریکہ کو کیا ممکنہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟
امریکہ کے لیے سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ وہ اس خطے میں اپنی مضبوط موجودگی قائم کرے، جہاں اب تک اس کا اثر و رسوخ اس کے بڑے حریفوں کی نسبت کم رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس خطے کے توانائی و اقتصادی وسائل ٹرمپ کی امریکہ کے لیے بے حد کشش رکھتے ہیں۔
سوال: اس منصوبے سے چین کے "ون روڈ ون بیلٹ” منصوبے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ اور مجموعی طور پر چین کے لیے اس امریکی تجویز سے کیا سکیورٹی اور اقتصادی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں؟
چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ایک وسیع، کثیر الجہتی اور پرت در پرت منصوبہ ہے جو وسیع خطوں پر محیط ہے۔ اگرچہ جنوبی قفقاز میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت چین کے اس منصوبے کو کسی حد تک متاثر کر سکتی ہے، تاہم یہ اکیلا عامل چین کے منصوبوں کو ناکام نہیں بنا سکتا۔
سوال: یورپی یونین نے بھی اس امریکی تجویز کی حمایت کی ہے۔ کیا اس سے روس کے علاقائی مفادات کو کوئی سکیورٹی یا اقتصادی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روس یوکرین میں الجھا ہوا ہے اور باکو و یریوان دونوں کے ساتھ اس کے تعلقات سوویت یونین کے زوال کے بعد سب سے نچلی سطح پر ہیں۔
سوال: آرمینیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ کاریڈور کا کنٹرول کسی تیسرے فریق کے حوالے نہیں کرے گا۔ تاہم ترکی نے یریوان پر زور دیا ہے کہ خطے کی نئی تبدیلیوں نے ایران کی پوزیشن کو کمزور کر دیا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یریوان بالآخر امریکی تجویز قبول کر لے گا؟ اور اس کے ایران کے مفادات پر کیا اثرات ہوں گے؟
یریوان گزشتہ چند برسوں سے مغرب کی طرف مسلسل جھکاؤ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں، آرمینیائی حکومت کمزور ہے اور وہ واشنگٹن کی منصوبہ بندی کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ترکی اس وقت کو قفقاز اور وسطی ایشیا میں بالادستی حاصل کرنے اور ایران کو کمزور و غیر اہم علاقائی کھلاڑی میں تبدیل کرنے کے لیے بہترین موقع تصور کرتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایران کے منصوبے، خاص طور پر شمال-جنوب کاریڈور، کو شدید دھچکا پہنچے گا، اور ممکن ہے یہ دھچکا جان لیوا ثابت ہو۔
سوال: اگر آرمینیا اور آذربائیجان کسی مخصوص فارمولے کے تحت کاریڈور کھولنے پر راضی ہو جائیں تو ایران کو اس حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اپنانی چاہیے؟
بدقسمتی سے ایران کی قفقاز میں پالیسیز طویل عرصے سے ردعمل پر مبنی اور عمومی طور پر کمزور رہی ہیں، خاص طور پر باکو کے حوالے سے۔ جتنا باکو نے ایران پر دباؤ ڈالا اور اس کے سکیورٹی و اقتصادی مفادات کو چیلنج کیا، ایران کا ردعمل اتنا ہی کمزور رہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ باکو نے ایران کے دشمنوں، جیسے اسرائیل، کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر لیے اور انہیں ایران کے خلاف مضبوطی سے استعمال کیا۔
ایران ہمیشہ تاخیر کا شکار رہا ہے، اور اپنی سستی کا خمیازہ برسوں سے بھگت رہا ہے۔ اس وقت ایران کے پاس چند ہی راستے بچے ہیں، اور وہ بھی کوئی خاص پرکشش نہیں۔ ایک راستہ یہ ہے کہ ایران صرف ان پالیسیوں اور منصوبوں پر توجہ دے جو حقیقت پسندانہ طور پر قابلِ عمل ہوں، اور وہ "سرخ لکیریں” کھینچنے سے گریز کرے جن پر وہ خود عملدرآمد نہیں کرنا چاہتا۔
ماضی میں کئی ایرانی حکام نے زنگزور کاریڈور کو ایران کی "سرخ لکیر” قرار دیا تھا، جو ترکی اور آذربائیجان کے منصوبوں سے متعلق تھی۔ سرخ لکیریں اسی وقت قابلِ اعتبار ہوتی ہیں جب انہیں عبور کرنے پر واضح نتائج اور جوابی اقدامات ہوں۔ مجھے یقین نہیں کہ ایران زنگزور سے متعلق اپنی سرخ لکیر کے عبور ہونے پر کوئی مؤثر اقدام اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگر ایران واقعی کوئی ٹھوس قدم اٹھانا چاہتا ہے تو اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ایسا کرے۔

