جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی حملے میں 30 اسرائیلی پائلٹس ہلاک، سابق سفیر

ایرانی حملے میں 30 اسرائیلی پائلٹس ہلاک، سابق سفیر
ا

تہران (مشرق نامہ) – ایران کے سابق سفیر برائے عراق، حسن کاظمی قمی نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ حالیہ 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے ایک کارروائی میں 30 اسرائیلی پائلٹس مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صہیونی حکومت کے لیے معمولی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تل ابیب کی حکومت اب تک اس حوالے سے کئی تفصیلات کو سنسر کر چکی ہے۔

کاظمی قمی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کی اصل حکمتِ عملی ایران میں نظام کی تبدیلی اور امریکہ کی واپسی تھی، لیکن وہ اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے رہبر انقلاب اسلامی کی قیادت میں صہیونی ریاست کو کاری ضرب لگائی اور علاقے میں دشمن کی وسیع تر سازشوں کو ناکام بنا دیا، جیسا کہ خبر رساں ادارے "مہر” نے رپورٹ کیا ہے۔

واضح رہے کہ صہیونی حکومت نے 13 جون کو ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کرتے ہوئے 12 دن تک ایران کے فوجی، جوہری اور رہائشی مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس دوران امریکہ نے بھی 22 جون کو ایران کے نطنز، فردو اور اصفہان میں تین جوہری تنصیبات پر فوجی حملے کیے۔

ایرانی افواج نے ان حملوں کے فوری بعد بھرپور جوابی کارروائیاں کیں۔ اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) کی ایرو اسپیس فورس نے "آپریشن سچا وعدہ 3” کے تحت صہیونی ریاست کے خلاف 22 مرحلوں پر مشتمل میزائل حملے کیے، جن سے مقبوضہ علاقوں کے متعدد شہروں کو شدید نقصان پہنچا۔

امریکی حملوں کے ردِعمل میں ایران نے قطر میں واقع "العدید ایئربیس” پر بھی میزائل داغے، جو مغربی ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ تصور کیا جاتا ہے۔

بعدازاں 24 جون کو نافذ ہونے والی جنگ بندی نے لڑائی کو وقتی طور پر روک دیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین