جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی افواج کا دیر البلح پر شدید حملہ، محفوظ علاقہ بھی نہ...

اسرائیلی افواج کا دیر البلح پر شدید حملہ، محفوظ علاقہ بھی نہ بچ سکا
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)اسرائیلی افواج نے غزہ کے مرکزی علاقے دیر البلح پر ایک نیا اور شدید فضائی و زمینی حملہ شروع کر دیا ہے، جسے پہلے ایک محفوظ انسانی زون قرار دیا گیا تھا۔ یہ کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب اسرائیلی فوج نے علاقے میں رہائش پذیر شہریوں پر جبری انخلا کے لیے پمفلٹس گرائے اور انہیں جنوب کی طرف المواسی منتقل ہونے کا حکم دیا—جو پہلے ہی بے گھر افراد سے بھرا ہوا اور سہولیات سے محروم ہے۔

پیر کے روز دیر البلح اور اس سے ملحقہ علاقوں پر شدید بمباری اور زمینی حملے کیے گئے۔ مقامی رہائشیوں نے مسلسل رات بھر جاری رہنے والے دھماکوں کو ہولناک قرار دیا۔

جس علاقے کو خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، وہاں تقریباً ایک لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں، جن میں سے بیشتر پہلے ہی کئی بار بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس انخلا میں ان خاندانوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے جو عارضی خیموں میں مقیم ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی زمینی افواج شمالی خان یونس سے دیر البلح کے جنوب مغربی کنارے کی طرف پیش قدمی کی تیاری کر رہی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو شہر کا جنوبی حصہ باقی مرکزی غزہ سے کاٹ دیا جائے گا، جس سے نہ صرف انسانی نقل و حرکت بلکہ خوراک و ادویات کی فراہمی بھی متاثر ہوگی۔

اقوام متحدہ کے ادارے OCHA نے خبردار کیا ہے کہ دیر البلح اس وقت باقی ماندہ بین الاقوامی امدادی سرگرمیوں کا آخری مرکز ہے، اور اس علاقے کو نقصان پہنچانا "زندگی کے لیے مہلک نتائج” کا سبب بن سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، تازہ جبری انخلا کے بعد اب غزہ کا 87.8 فیصد علاقہ یا تو فوجی قبضے میں ہے یا نقل مکانی کے احکامات کے تحت ہے، اور 21 لاکھ فلسطینیوں کو صرف 12 فیصد علاقے میں محدود کر دیا گیا ہے، جہاں بنیادی سہولیات مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

یہ حملہ ایک روز بعد کیا گیا جب اتوار کے روز خوراک حاصل کرنے کے لیے جمع مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے گولیاں برسائیں، جس میں کم از کم 73 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ غزہ میں گزشتہ 21 ماہ کے دوران ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتوں میں سے ایک ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 6 ہفتوں کے دوران غزہ میں 1,000 سے زائد فلسطینی امدادی مراکز کے آس پاس قتل کیے گئے، جن میں زیادہ تر امریکی حمایت یافتہ "غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن” کے مقامات پر مارے گئے۔

اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں کم از کم 59,000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل پر طویل عرصے سے فلسطینیوں کے خلاف "خوراک کو بطور ہتھیار” استعمال کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

یہ صورتحال نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے، بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی ضمیر پر ایک سنگین سوال بھی کھڑا کرتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین