جمعرات, فروری 19, 2026
ہوممضامینافریقہ کی اعلیٰ ترین یونیورسٹی کی ’غزہ قراردادوں‘ نے اسرائیل نواز لابی...

افریقہ کی اعلیٰ ترین یونیورسٹی کی ’غزہ قراردادوں‘ نے اسرائیل نواز لابی کو مشتعل کر دیا
ا

تحریر: سیریل زندا

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں، افریقہ کی صفِ اول کی یونیورسٹی کا فیصلہ — جس میں یہودی دشمنی (Anti-Semitism) کی IHRA تعریف کو مسترد کیا گیا اور بعض اسرائیلی ماہرین تعلیم سے تعلقات منقطع کیے گئے — اسے ایک ایسا میدانِ جنگ بنا چکا ہے جہاں ایک طرف صیہونیت مخالف حلقے ہیں اور دوسری طرف اسرائیل نواز گروہ، جو اسرائیلی ریاست پر کسی بھی قسم کی تنقید کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

غزہ قراردادیں: آزادیٔ اظہار کا اعلان

22 جون 2024 کو یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن (UCT) نے دو جرات مندانہ قراردادیں منظور کیں:

  1. IHRA (انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ریمیمبرنس الائنس) کی 2016 کی تعریف کو مسترد کر دیا گیا، جو اسرائیلی ریاست پر تنقید کو اکثر یہودی دشمنی سے تعبیر کرتی ہے۔ اس کے بجائے 2021 کی یروشلم ڈیکلریشن کی حمایت کی گئی، جو واضح طور پر فرق کرتی ہے کہ اصل یہودی دشمنی کیا ہے — یعنی یہودیوں کے خلاف مذہب، نسل یا قومیت کی بنیاد پر امتیاز — اور محض اسرائیل یا صیہونیت پر تنقید کیا ہے، جسے جھوٹا یہود دشمنی کہا جاتا ہے۔
  2. دوسری قرارداد میں ان تمام اسرائیلی ماہرین تعلیم سے روابط ختم کرنے کا اعلان کیا گیا جن کے اسرائیلی قابض افواج (IOF) سے تعلقات ہیں۔

ان قراردادوں کو بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا۔ ان میں غزہ کے تعلیمی شعبے کی تباہی اور اساتذہ و جامعاتی عملے کے قتل کی مذمت بھی شامل تھی۔

صیہونی لابی برہم، قانونی جنگ شروع

جنوبی افریقہ اور دنیا بھر میں اسرائیل نواز لابی نے ان قراردادوں پر سخت اعتراض کیا۔ کچھ نے فوری طور پر یونیورسٹی کی مالی معاونت روک دی، جبکہ دوسروں نے ان قراردادوں کو “غیر منطقی” قرار دے کر انہیں عدالت میں چیلنج کر دیا۔

قراردادیں غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں: پروفیسر مینڈلسون

UCT کے کیپلن سینٹر فار جیوش اسٹڈیز کے ڈائریکٹر، پروفیسر ایڈم مینڈلسون، اس قانونی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ 22 اگست 2024 کو انہوں نے جنوبی افریقہ کی ویسٹرن کیپ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں ان قراردادوں کو "غیر قانونی، غیر آئینی اور کالعدم” قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

مینڈلسون کا دعویٰ ہے کہ یہ قراردادیں "غیر منطقی طریقے سے” منظور کی گئیں اور ان سے ان کا تحقیقی کام متاثر ہوگا، کیونکہ وہ اسرائیلیوں، بشمول IOF یا فوجی اداروں سے وابستہ افراد، پر تحقیق کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا:

"یونیورسٹی کونسل نے ان قراردادوں کو منظور کرتے وقت کئی اہم پہلوؤں، جیسے مالی اثرات، تعلقات اور شہرت، کو نظر انداز کیا۔ اس لیے یہ قراردادیں کسی بھی جائز مقصد سے منطقی تعلق نہیں رکھتیں۔”

یونیورسٹی کا مؤقف: یہ بائیکاٹ نہیں، آزادی کا تحفظ ہے

یونیورسٹی کونسل کے چیئرمین نارمن ایرینڈسے نے مینڈلسون کی درخواست کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کسی قسم کا تعلیمی بائیکاٹ نہیں، بلکہ اظہارِ رائے، تعلیمی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کا تحفظ ہیں۔

دریں اثنا، صیہونی ڈونرز نے کم از کم 200 ملین رینڈ (تقریباً 11.3 ملین ڈالر) کی امداد واپس لے لی ہے۔

"یہودیت اور صیہونیت کو الگ کرنا ضروری ہے”

یہ مقدمہ اس بڑھتی ہوئی خلیج کو اجاگر کرتا ہے جو عالمی یہودی برادری میں صیہونی اور صیہونیت مخالف یہودیوں کے درمیان پیدا ہو رہی ہے، خاص طور پر اسرائیلی جارحیت کے پس منظر میں۔

اسی سیاق میں، ساوتھ افریقن جیوز فار آ فری فلسطین (SAJFP) نے عدالت میں بطور amicus curiae (دوستِ عدالت) شامل ہونے کے لیے درخواست دی ہے۔

9 جون 2025 کو دائر کردہ درخواست میں، SAJFP نے اپنے رکن ڈاکٹر جیرڈ سیکس کے توسط سے کہا:

"یہ مقدمہ ہمارے ارکان کے حقوق، تحفظ، سیاسی اظہار اور تعلیمی آزادی پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے، خاص طور پر ان افراد پر جو UCT کے طلبہ و اساتذہ ہیں۔”

انہوں نے بتایا کہ ان کے کئی ارکان کو پرو-فلسطین مؤقف کی وجہ سے ہراساں اور دھمکایا گیا ہے۔

درخواست میں لکھا گیا:

"ہماری تنظیم کا ایک اہم مقصد یہودیت (ایک قدیم مذہب جس کے ماننے والے مختلف نسلوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں) اور صیہونیت (ایک قوم پرست اور سفید فام بالادست نظریہ جو فلسطین پر قبضے کے لیے تشکیل دیا گیا) کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہے۔”

"ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل پر تنقید یہودی دشمنی نہیں ہے، اور ایک ایسی ریاست کے وجود کی مخالفت — جو اکثریتی یہودی آبادی اور سیاسی تسلط قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے — بھی یہودی دشمنی نہیں ہے۔”

ڈاکٹر سیکس نے اپنے بیانِ حلفی میں کہا:

"IHRA کی تعریف یہودیت اور صیہونیت کو ایک کر دیتی ہے، اور یوں اسرائیل کے جرائم کا بوجھ تمام یہودیوں کے سر ڈالتی ہے۔ اگر یہ فرق واضح نہ کیا جائے تو یہودی طلبہ اور اساتذہ ہی نفرت انگیزی کا ہدف بنتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا:

"اسرائیل کی فلسطینیوں پر طویل مدتی جبر کی تاریخ کو یہودی طلبہ، اساتذہ اور سابق طلبہ سے منسلک کرنا ظلم ہے، اور یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے کہ اس سے خود کو الگ کرے۔”

یہودی ماہرین کی گواہیاں

SAJFP نے عدالت میں اپنے مؤقف کی حمایت کے لیے مقامی و عالمی یہودی ماہرین کی گواہیاں بھی پیش کیں:

پروفیسر اسٹیون فریڈمین (یونیورسٹی آف جوہانسبرگ)

پروفیسر آئزک کامولا (ٹریٹی کالج، امریکہ؛ ڈائریکٹر: سینٹر فار دی ڈیفنس آف اکیڈمک فریڈم)

پروفیسر جون اسکاٹ (انسٹیٹیوٹ فار ایڈوانسڈ اسٹڈی، پرنسٹن، نیو جرسی)

یہ وہی ادارہ ہے جس میں معروف یہودی سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن نے نازی جرمنی سے فرار کے بعد شمولیت اختیار کی تھی۔

—پروفیسر فریڈمین نے کہا کہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ مغرب کی حمایت یافتہ IHRA کی یہود دشمنی کی تعریف دراصل یہودیوں پر خود اپنے خلاف امتیاز برتنے کا الزام لگاتی ہے۔

انہوں نے SAJFP کی عدالت میں دائر درخواست میں اپنے بیان میں وضاحت کی:
"یہ (تعریف) یہاں تک کہ یہودی افراد کو بھی یہود دشمن قرار دیتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ لوگ خود اپنے خلاف تعصب یا امتیاز رکھتے ہیں، یہ ایک عجیب دعویٰ ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ حقیقت کہ کچھ یہودی امن کو جنگ پر ترجیح دیتے ہیں، یا انتخابی نظام یا ایٹمی طاقت کے خلاف ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یہود دشمن ہیں۔ بعض یہودی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اسرائیلی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہے۔ اس تعریف کے مطابق، وہ تمام یہودی جو یہ نظریہ رکھتے ہیں، ‘یہود دشمن’ کہلائیں گے۔”

پروفیسر فریڈمین نے واضح کیا کہ صہیونیت اور "نئی یہود دشمنی” کا تصور یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ یہودی جو اسرائیل سے جڑے نہیں یا اس کی مخالفت کرتے ہیں، وہ یہود دشمن ہیں۔

انہوں نے کہا:
"یہ واضح ہے کہ صہیونیت کی مخالفت اور اسرائیلی ریاست یا اس کے اقدامات کی اصولی مخالفت کو یہود دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ IHRA کی تعریف میں شامل ’مثالیں‘ اسرائیلی ریاست یا اس کے اقدامات کی مخالفت کو نسلی تعصب کے طور پر پیش کرتی ہیں، اور اس طرح اس مخالفت کو بے وقعت کرنے اور اسے کسی پلیٹ فارم سے محروم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی یونیورسٹی کا IHRA تعریف کو رد کرنا نہ تو یہود دشمنی ہے، نہ ہی اسے غیرمنطقی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دراصل یہ اس بات کی توثیق ہے کہ اسرائیلی ریاست اور اس کے اقدامات کے بارے میں ہر قسم کے خیالات کا آزادی سے اظہار کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر جب وہ یونیورسٹی حقیقی یہود دشمنی کی مخالفت کا عہد کر چکی ہو اور یروشلم اعلامیہ برائے یہود دشمنی کو اپنا چکی ہو۔”

"UCT، امریکی جامعات جیسی صورت حال کا اعادہ”

پروفیسر کامولا اور پروفیسر اسکاٹ، دونوں نے امریکی تجربے کی بنیاد پر گواہی دی جہاں جامعات کو صہیونی لابی کی طرف سے مالی دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ IHRA تعریف کو رد کر چکی تھیں۔

پروفیسر کامولا نے کہا:
"میری رائے میں، UCT کو عطیہ دہندگان کی ہدایات پر مجبور کرنا، جو ادارے کی مشترکہ حکمرانی کے خلاف ہو، اور IHRA تعریف کو اپنانے کا تقاضا کرنا، تعلیمی آزادی اور جامعہ کی خودمختاری کے لیے ایک کھلا خطرہ ہے۔”

انہوں نے مزید کہا:
"اگر عطیہ دہندگان یہ طے کریں کہ کون سا اظہارِ خیال قابل قبول ہے – جیسے کہ اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی قرار دینا – تو اس سے UCT کی رہنما اقدار، جیسے کہ علمی آزادی، ادارہ جاتی خودمختاری، اور مشترکہ حکمرانی، شدید متاثر ہوں گی۔ امریکی مثال واضح کرتی ہے کہ اگر عطیہ دہندگان کو یہ طاقت دی جائے، تو یہ تعلیمی اداروں کے فکری کام اور مشن کو ختم کر دیتی ہے۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یونیورسٹیاں عطیہ دہندگان کے مطالبات کے سامنے جھکیں تو اس کے تعلیمِ عالیہ پر سنگین نتائج مرتب ہوتے ہیں:
"یہ اس بنیادی اصول کو ترک کرنے کے مترادف ہے کہ جامعات آزاد اور تنقیدی سوچ کی جگہ ہیں۔ یہ اس بات کو عطیہ دہندگان کے ہاتھوں میں دے دیتی ہے کہ وہ فیصلہ کریں کون سا طالب علم سزا کا مستحق ہے، اور کون سا استاد رکھا جائے، نکالا جائے یا ترقی دے جائے۔ یہ ان کی صلاحیت کو بھی سلب کر دیتا ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں یا ایک زیادہ منصفانہ دنیا کا مطالبہ کریں۔”

"اسی صہیونی دباؤ کی بازگشت”

پروفیسر جون اسکاٹ نے امریکی صورتِ حال اور UCT کی حالیہ کشمکش میں مماثلت کی نشاندہی کی۔

انہوں نے کہا:
"امریکی تجربہ جنوبی افریقی جامعات کے لیے بھی متعلقہ ہے، جہاں اسی صہیونی دباؤ کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ IHRA تعریف کو لازماً یہود دشمنی کے تعین کے لیے استعمال کیا جائے۔”

انہوں نے مزید وضاحت کی:
"یہ تعریف، جسے موجودہ اسرائیلی حکومت عالمی سطح پر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے، اس تنقیدی تحقیق اور تعلیم کو خاموش کرا دیتی ہے جو ایک لبرل جمہوری تعلیم کی پہچان ہے۔ وہی لوگ جو اس تعریف کو انفرادی آزادی کے نام پر نافذ کروانا چاہتے ہیں، وہی دراصل اس آزادی کو دوسروں سے چھیننا چاہتے ہیں جو کہ جامعہ کی پالیسی بنانے میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔”

پروفیسر اسکاٹ نے کہا کہ عطیہ دہندگان UCT کے IHRA کو مسترد کرنے سے ناخوش ہوں گے:
"امریکہ اور جنوبی افریقہ، دونوں میں نتیجہ ایک جیسا ہو گا: یہ فیصلہ کرے گا کہ اسرائیل کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے اور کیا نہیں، ایک ایسی تعریف کی بنیاد پر جو مشتبہ اور متنازع ہے؛ فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ پر تحقیق و تدریس پر قدغنیں لگائی جائیں گی؛ اور یونیورسٹی کی خودمختاری اور اس کے فیکلٹی گورننس اداروں کو کمزور کیا جائے گا۔”

یہ کیس اس سال کے آخر میں مکمل بینچ کے سامنے سنا جائے گا۔ UCT جنوبی افریقہ کی ان 26 جامعات میں سے تازہ ترین مثال ہے جو صہیونی ریاست سے تعلقات منقطع کرنے کی سمت گامزن ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین