مصنف: حمزہ رِفاعت
افریقی ریاستیں — چاہے وہ نوآبادیاتی ظلم کا شکار فرانکوفون ممالک جیسے سیرا لیون اور الجزائر ہوں، یا جنوبی افریقہ جیسے ممالک جہاں ڈچ آبادکاروں نے عوام پر نسل پرستی (اپارتھائڈ) مسلط کی — ان سب کو آزادی کے بعد بھی معاشی، سیکیورٹی اور سیاسی ترقی کے حقیقی مواقع سے محروم رکھا گیا۔ اگرچہ یہ ممالک اب خودمختار سیاسی نظام رکھتے ہیں اور نوآبادیات سے نکل چکے ہیں، مگر اب بھی پائیدار ترقی سے کوسوں دور ہیں۔
مغربی کثیرالقومی کمپنیاں جب جمہوریہ کانگو جیسے ممالک میں وسائل نکالتی ہیں، تو اس کا فائدہ مقامی آبادی کو نہیں پہنچتا بلکہ عدم استحکام اور تضادات مزید بڑھتے ہیں۔ افریقی وسائل آج بھی ترقی یافتہ یا سابق نوآبادیاتی طاقتوں کی معیشتوں کو چلا رہے ہیں، مگر اس کا نتیجہ افریقہ میں صرف غربت، مایوسی، بیروزگاری، استحصال اور مسلسل تنازعات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
اسی تناظر میں، 2025 میں بہت سے افریقی ممالک — جن کی اپنی مخصوص سیاسی و معاشی حقیقتیں ہیں — روس کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ یہ ایک بڑی تزویراتی صف بندی ہے، اور افریقی ممالک کی جانب سے ماسکو کے کردار کو خوش آمدید کہنے کا اظہار ہے، جو اب براعظم میں خوشحالی، استحکام اور سلامتی کا پرچارک بن کر اُبھر رہا ہے۔
یہ رجحان کئی عوامل کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے، اور وہ تمام افریقی ریاستیں جنہوں نے مغربی نوآبادیاتی نظام سے تنگ آ کر نئے متبادل تلاش کیے، اب روس کو ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
بالغ سفارت کاری بمقابلہ مغربی شرائط
چین کی طرح، جو چو این لائی کے "پرامن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں” پر کاربند ہے، روس بھی اپنی خارجہ پالیسی میں دوسرے ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی، داخلی سیاست میں مداخلت، مالی دباؤ یا اصلاحات کی شرائط پر یقین نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس، روس اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک بشمول افریقی ریاستوں — چاہے وہ آمرانہ سمجھی جاتی ہوں — کے ساتھ تزویراتی، بامعنی اور طویل المدتی تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔
روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کی وجہ ماسکو کی "عدم مداخلت” کی پالیسی اور صدر پیوٹن کی اس کوشش کو قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد افریقی ممالک، جیسے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، میں موجود نوآبادیاتی استحصالی ڈھانچوں کا خاتمہ ہے۔ روسی رویّے کو مغربی تعاون کے نظاموں سے واضح طور پر مختلف پایا گیا ہے، جو اکثر مقامی سماجی ڈھانچوں، قبائلی رقابتوں، اور موجودہ معاشی امکانات کو نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ افریقی ممالک میں بحرانوں کے دوران بھی جی ڈی پی میں مثبت رجحانات دیکھے گئے ہیں۔
افریقی ریاستیں مغربی پالیسی سازی جیسے "ڈی-کپلنگ” (decoupling)، تحفظ پسند پالیسیوں، اور پاپولزم کا سامنا کر رہی ہیں۔ مغربی مالیاتی ادارے اور امدادی ایجنسیاں اکثر اپنے وعدے پورے نہیں کرتیں یا دردناک اسٹرکچرل اصلاحات پر زور دیتی ہیں، جو عام افریقی شہری کو مزید مایوسی سے دوچار کرتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں آئی ایم ایف کے پروگرامز نے مقامی خوشحالی لانے کے بجائے قومی اداروں، خزانے، اور ریاستی بینکوں پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔
اس کے برعکس، روسی پالیسی میں نہ تو "اسٹرکچرل ریفارمز” کی شرط شامل ہے، نہ "اچھی طرزِ حکمرانی” کی، جو اکثر نوآبادیاتی کنٹرول کی ایک اور شکل سمجھی جاتی ہے۔ روسی پالیسی موجودہ معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر مرکوز ہے، جیسا کہ اپریل 2025 میں ہوا جب وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے مالی، نائجر اور برکینا فاسو کے سفارتکاروں کی میزبانی کی تاکہ وسائل کی شراکت داری کے معاہدوں پر تبادلہ کیا جا سکے۔ یہ پیش رفت ان تینوں ممالک میں عوامی سطح پر خوب سراہا گیا، جہاں فرانسیسی مداخلت کی مذمت کی گئی اور روسی سفارت کاری کو ایک مقامی سطح کی کامیابی کے طور پر سراہا گیا۔
اسی طرح جون 2025 میں، روس نے مالی کے ساتھ نیوکلیئر انرجی میں تعاون، ارضیاتی کھوج (geological exploration)، اور سونے کی صفائی کے کارخانوں کی تعمیر سے متعلق معاہدے کیے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان معاہدوں میں کوئی شرط عائد نہیں کی گئی — نہ ہی اسٹرکچرل ریفارمز، نہ ہی حکومت کی تبدیلی، نہ ہی "اچھی حکمرانی” — بلکہ ان کا مقصد صرف معاشی خوشحالی کو فروغ دینا ہے، وہ بھی غیر سیاسی انداز میں۔
بااثر عسکری معاونت: واگنر گروپ اور اس سے آگے
افریقی ریاستوں کو درپیش سب سے بڑے مسائل میں سے ایک مستقل سیکیورٹی بحران ہے، خاص طور پر سب-صحاران افریقہ (Sub-Saharan Africa) میں، جس نے وہاں کے سیاسی و معاشی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ روس کا "افریقہ کارپس” یا واگنر پرائیویٹ ملٹری کمپنی (PMC) جیسے بعد از واگنر ادارے، ان بحرانوں کو ختم کرنے میں تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔
واگنر گروپ نے مقامی فوجی دستوں کو تربیت دی، عسکری مشاورت فراہم کی، اور مختلف ریاستوں میں تنازعات کے دوران مداخلت کے ذریعے صلاحیت میں اضافہ کیا۔ اس کا موازنہ مغربی افواج سے کیا جا سکتا ہے جو اکثر پیچھے ہٹ جاتی ہیں اور نائجر، سینٹرل افریقن ریپبلک (CAR) اور سوڈان جیسے غیر مستحکم ممالک کو ان کے حال پر چھوڑ دیتی ہیں۔
روس اور افریقی ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کا ایک غیر روایتی پہلو بھی ہے جو قابلِ تعریف ہے۔ روس نے نائجر میں یورینیم، اور دیگر ممالک میں سونا اور ہیرے حاصل کرنے کے معاہدے کیے ہیں۔ اگرچہ یہ معاہدے وسائل نکالنے پر مبنی ہیں، مگر یہ افریقی ریاستوں کی خودمختاری کو متاثر نہیں کرتے، اور روس کی ریاستی خودمختاری کے احترام کو ظاہر کرتے ہیں۔
مالی میں، واگنر اہلکاروں نے حکومتی افواج کی مدد کے ساتھ ساتھ سونے کے ذخائر والے علاقوں — جیسے سکاسو اور کولی کورو — تک رسائی حاصل کی، جس کے بدلے میں ان علاقوں میں سیکیورٹی کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ ایسے ہی ماڈلز CAR میں بھی اپنائے گئے۔
CAR جیسے انتہائی غریب ممالک کے لیے یہ مدد بہت اہم رہی۔ 2018 میں واگنر انسٹرکٹرز اور 2019 میں 1000 سے زائد روسی فوجی اہلکاروں کی آمد نے بنگوئی حکومت کو گرنے سے بچایا اور مزید سیاسی عدم استحکام سے بچایا۔ واگنر سے منسلک کمپنیوں جیسے لو بائے اِنویسٹ، بوئے رُوج اور ڈیام وِل نے سونے اور ہیرے کے ذخائر جیسے نڈاسیمہ کان پر کنٹرول حاصل کیا، جو سالانہ کروڑوں ڈالر کی آمدن دے رہی ہے — یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ روسی عسکری معاونت کے ساتھ اقتصادی فوائد بھی حاصل ہو رہے ہیں۔
شمالی اور شمال مشرقی افریقہ میں، سوڈان جیسے ممالک نے بھی روس کے تعاون سے اپنے پیرا ملٹری ڈھانچوں کو مضبوط کیا، اور بحیرہ احمر تک رسائی حاصل کی، جو عالمی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے۔ لیبیا میں بھی، سابقہ سویت تعلقات نے ماسکو کو ایک لاجسٹک نیٹ ورک فراہم کیا ہے جو شمالی افریقہ کو ساحل کے علاقے (Sahel) سے جوڑتا ہے۔
یہ تمام سرگرمیاں کھلے، شفاف اور غیر جبری انداز میں انجام پا رہی ہیں، جن میں مقامی سیاسی حرکیات میں مداخلت نہیں کی جا رہی۔ 2025 اور اس سے پہلے کے رجحانات واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں

