جمعرات, فروری 19, 2026
ہوممضامینشام کے ساحلی علاقوں میں خواتین کے اغوا کو کون لگام دے...

شام کے ساحلی علاقوں میں خواتین کے اغوا کو کون لگام دے گا؟
ش

خاموشی میں گم ہو جانا — شام کے ساحلی صوبوں میں درجنوں علوی خواتین اغوا ہو رہی ہیں، خوف، بدنامی اور انکار کی فضا میں۔

مارچ میں شامی ساحل پر ہونے والے خونی حملوں کے زخم ابھی بھرنے بھی نہ پائے تھے کہ ایک اور خوفناک لہر نے جنم لیا، جس نے مقامی خواتین کو اس خدشے میں مبتلا کر دیا کہ کہیں ان کا انجام بھی وہی نہ ہو جو تقریباً ایک دہائی پہلے داعش کے ہاتھوں عراقی یزیدی خواتین کا ہوا تھا۔

حال ہی میں درجنوں علوی شامی خواتین اور لڑکیوں کو اغوا کیا گیا، اور ان کے کئی کیسز صوبہ لاذقیہ، طرطوس، حماہ اور حمص میں دستاویزی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ ان کے اہل خانہ روزانہ کی بنیاد پر ویڈیوز کے ذریعے عوام اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان خواتین کا سراغ لگایا جائے۔

یہ مسئلہ مقامی تعلیمی اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، دیہی اور نواحی علاقوں میں رہنے والی لڑکیوں میں یونیورسٹی سے غیر حاضری کی شرح کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ان علاقوں میں غروب آفتاب کے بعد خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

خوفناک اعداد و شمار

"سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس” کے مطابق، اس سال کے آغاز سے اب تک 50 سے زائد علوی خواتین کے اغوا کی تصدیق ہو چکی ہے، جن کی قسمت اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔

آبزرویٹری کے مطابق، ان خواتین کو مختلف حالات میں اغوا کیا گیا — کچھ مارچ کے خونی واقعات کے دوران لاپتہ ہوئیں، کچھ کام پر جاتے ہوئے، اور کچھ روزمرہ کے سفر کے دوران دن دہاڑے غائب ہو گئیں۔

ادارے نے مزید بتایا کہ بہت سے خاندان اپنی بیٹیوں کے اغوا کی اطلاع دینا بھی نہیں چاہتے، یا تو سماجی بدنامی کے خوف سے یا اس لیے کہ انہیں واپسی کی امید ہی نہیں رہی۔

دستاویزی کیسز اور دردناک گواہیاں

دارین سلیمان کے بچے اپنی نانی سے بار بار پوچھتے ہیں: "امی ابھی تک کیوں نہیں آئی؟” نانی کے پاس جواب نہیں۔ ایک مہینے سے زیادہ ہو چکا ہے، جب دارین اور ان کی بہن اَرین کو مسیاف میں دن دہاڑے اغوا کیا گیا۔ حال ہی میں ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں دونوں خواتین کو دکھایا گیا؛ دارین نے بتایا کہ وہ محفوظ ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کے شوہر اغوا کاروں سے بات کرنے پر آمادہ نہیں، اور وہ جلد اپنے خاندان سے ملنے کی امید رکھتی ہیں۔

سترہ سالہ زینب الزکرا کے خاندان کو آخری پیغام یہ ملا:
"خدا کی قسم، اگر میں نے اس کی تصویر سوشل میڈیا پر دیکھی تو میں تمہیں اس کا خون بھیج دوں گی۔”
یہ پیغام زینب کے فون سے آیا۔ زینب کو لاذقیہ کے دیہی علاقے ’الحنادی‘ میں اسکول جاتے ہوئے اغوا کیا گیا۔ اس کے بعد صرف ایک بار کال موصول ہوئی، جس میں اس نے بتایا کہ وہ پیٹ درد میں مبتلا ہے اور نہیں جانتی کہ کہاں ہے۔ اس کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

سارہ حمود نے اپنی والدہ، محترمہ عطاب جدید کے لاپتہ ہونے کی اطلاع طرطوس کے پبلک پراسیکیوٹر کو دی۔ وہ مئی کے وسط میں رات آٹھ بجے سمندر کے کنارے دیکھی گئی تھیں، اس کے بعد سے کوئی سراغ نہیں ملا۔ ان کی بیمار ماں نے ایک ویڈیو میں بیٹی کے بارے میں معلومات کے لیے عوام سے اپیل کی۔ پولیس تفتیش کر رہی ہے، لیکن اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

نغم عیسیٰ کا دکھ بھرا انجام

خربت الحمام گاؤں کی نوجوان خاتون نغم عیسیٰ بڑی خوشی اور امید کے ساتھ اپنے آنے والے بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے ڈاکٹر کے پاس گئیں۔ وہ کلینک میں داخل ہونے سے پہلے تک اپنی فیملی سے رابطے میں تھیں — پھر خاموشی چھا گئی۔ بعد میں اغوا کاروں نے نغم کے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا اور 5,000 ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا۔ مالی تنگی کے شکار خاندان نے رقم اکٹھی کرنے کی بھرپور کوشش کی، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ چند دن بعد نغم کی لاش سڑک کنارے بے یارو مددگار حالت میں ملی۔

مای سَلُوم: ایک ماں کی گمشدگی، تین بچوں کی فریاد

مای سلوم کے تین بچوں کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ حکام سے فریاد کر رہے ہیں کہ ان کی ماں کو واپس لایا جائے، جو 21 جون کی شام لاذقیہ سے لاپتہ ہو گئی تھیں۔ کچھ دن بعد ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں مای سلوم کو حجاب میں دکھایا گیا۔ ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے دوست کے ساتھ حلب چلی گئی ہیں اور اپنے خاندان سے رابطہ کیا ہے — مگر ان کے اہلِ خانہ نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔

خاندان کا کہنا ہے:
"مای سلوم نے کبھی گھر سے جانے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔ اُن کی اولاد سے محبت سب کو معلوم ہے، اس لیے یہ تصور بھی محال ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اُنہیں چھوڑ کر چلی جاتیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ اُنہیں زبردستی روکا گیا ہے اور یہ ویڈیو بھی دباؤ یا دھمکی کے تحت بنوائی گئی ہے۔ براہِ کرم ہمیں تنہا نہ چھوڑیں، ہماری بیٹی کو رہا کرانے میں ہماری مدد کریں۔”

ادلب میں ایک خاموش گواہ

جب ساحلی علاقوں میں عورتوں کے اغوا کا معاملہ مزید دھندلا ہوتا جا رہا ہے، معروف فیمینسٹ کارکن ہیبا عزالدین نے اپنی ادلب آمد کے دوران ایک حیران کن واقعے کا انکشاف کیا۔

ایک حذف شدہ پوسٹ میں ہیبا نے لکھا کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ ادلب کے ایک گاؤں گئیں، جہاں اُنہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو متعدد شادیوں کے لیے مشہور تھا۔ اس کے ساتھ ایک ایسی خاتون تھی جسے ہیبا پہچان نہیں سکیں۔ خاتون کا حجاب عجیب انداز میں تھا، اور وہ منتشر اور سہمی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔

بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خاتون ساحلی علاقے سے تعلق رکھتی ہے، اور مارچ میں ہونے والے خونی حملوں سے زندہ بچی تھی۔ بتایا گیا کہ اس کا "شوہر” اُسے گاؤں لایا اور اس سے شادی کی، مگر اس شادی کی تفصیلات بہت دھندلی ہیں۔ خاتون بہت خوفزدہ تھی اور کوئی بات نہیں کر رہی تھی، نہ ہی اس کے ماضی کے بارے میں کچھ معلوم تھا۔

ہیبا عزالدین نے کہا کہ انھیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ حالیہ برسوں میں ادلب کے مردوں اور ساحلی خواتین کے درمیان کوئی شادی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس کے بعد انہوں نے دیگر سماجی کارکنان، انقلابیوں، اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے رابطہ کیا، جن میں سے کئی نے اس بات کی تصدیق کی کہ "ساحلی علاقوں سے خواتین کے اغوا واقعتاً مختلف گروہوں کی جانب سے کیے گئے ہیں”۔ ان میں سے کچھ ذمہ داری نیشنل آرمی کے دھڑوں اور غیر ملکی جنگجوؤں پر عائد کرتے ہیں، جن کے عزائم مختلف ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی تحقیقات، حکومتی انکار

حکومتی عہدیدار ان الزامات کی تردید کر رہے ہیں، جب کہ اقوامِ متحدہ کی ایک کمیٹی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے کمیشن آف انکوائری برائے شام نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ علوی خواتین کے لاپتہ ہونے اور اغوا کے کیسز کی تحقیق کر رہے ہیں، کیونکہ اس سال ایسی رپورٹس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کمیشن کے ترجمان نے تصدیق کی کہ تحقیقات مکمل ہونے پر رپورٹ انسانی حقوق کونسل کو پیش کی جائے گی۔ کمیشن کے چیئرمین پاؤلو سیریجو پنہیرو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس بہار میں کم از کم چھ علوی خواتین کے اغوا کو دستاویزی شکل دی گئی ہے، جنہیں مختلف شامی صوبوں سے اغوا کیا گیا۔ ان میں سے دو خواتین کے بارے میں اب تک کوئی معلومات دستیاب نہیں۔

شامی حکومت کا مؤقف اور متنازع بیانات

شامی حکومت نے اب تک اس مسئلے پر باضابطہ طور پر کوئی بیان نہیں دیا۔ تاہم، طرطوس گورنری کے میڈیا ڈائریکٹر احمد محمد خیر نے رائٹرز کو بتایا کہ عورتوں کے لاپتہ ہونے کی زیادہ تر وجوہات خاندانی جھگڑے یا ذاتی مسائل ہیں، نہ کہ اغوا۔
انہوں نے کسی بھی دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ غیر مصدقہ الزامات محض خوف پھیلانے، بداعتمادی بڑھانے، اور سلامتی کو خراب کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔

لاذقیہ گورنری کے میڈیا ڈائریکٹر نے بھی انہی خیالات کا اعادہ کیا اور دعویٰ کیا کہ اکثر خواتین عاشقوں کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں، اور خاندان اغوا کی کہانی بنا کر بدنامی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین