اسلام آباد (مشرق نامہ) – وزیراعظم پاکستان کے وژن کے تحت 1,000 زرعی ماہرین کی تربیت کے پروگرام کے دوسرے بیچ کا پہلا گروپ — 100 پاکستانی زرعی گریجویٹس — اتوار کو پی آئی اے کی خصوصی پرواز PK-856 کے ذریعے چین کے ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی روانہ ہوگیا۔
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق (MNFSR) کے مطابق یہ ماہرین چھ ماہ کا خصوصی تربیتی پروگرام مکمل کریں گے جس کا محور فصلوں کی افزائش نسل اور جینومکس ہے۔ پروگرام کا مقصد چین کی پائیدار اور جدید زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنا ہے۔
یہ اقدام وزارت غذائی تحفظ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن، وزارت خارجہ اور بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے اشتراک سے عمل میں لایا گیا۔ تربیت کے لیے منتخب افراد کا تعلق بیج، کھاد، پیسٹی سائیڈ، زرعی تحقیق، مشینری، نجی و سرکاری اداروں سمیت مختلف زرعی شعبوں سے ہے۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر منعقدہ روانگی تقریب میں وزارت اور ایچ ای سی کے افسران نے شرکاء کو الوداع کہا۔ مقررین نے نوجوان ماہرین پر زور دیا کہ وہ چینی تجربات سے سیکھ کر پاکستان کے زرعی نظام کو سائنسی بنیادوں پر استوار کریں اور پاک چین تعاون کو مضبوط بنائیں۔
اس سے قبل 292 پاکستانی زرعی ماہرین تین ماہ کی تربیت مکمل کر چکے ہیں اور 21 جولائی کو وطن واپس پہنچیں گے۔
یہ پروگرام وزیراعظم کے زرعی اصلاحات اور فوڈ سیکیورٹی کے ایجنڈے کا اہم جز ہے اور سی پیک کے تحت پاک چین تعاون کا ایک اور سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ چین میں پاکستانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور سائنسی تعاون کے فروغ پر باہمی تشکر کا اظہار کیا گیا۔

