مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– خضدار کے دور دراز علاقے سے لیویز فورس نے ایک ہندو خاندان کے 9 افراد کو جبری مشقت سے نجات دلا دی، جب کہ کارروائی کے دوران 2 بااثر زمینداروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، اس کارروائی کی بنیاد سینیٹر دنیش کمار کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو دی گئی باضابطہ درخواست پر رکھی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ حکام کو ہدایت جاری کی، جس کے نتیجے میں تحصیل گریشہ کے علاقے خُرا میں یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
وزیر اعلیٰ کی ہدایات پر قلات ڈویژن کے کمشنر کی نگرانی میں لیویز فورس نے فوری ایکشن لیا۔ چھاپے کے دوران مزدوروں کو سخت اور جبری حالات میں کھیتوں میں کام کرتے ہوئے پایا گیا۔ اس موقع پر دو بااثر زمیندار، بابو اور داد محمد بلوچ، کو جبری مشقت کروانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
بازیاب کرائے گئے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن کا تعلق سندھ کے ضلع سانگھڑ سے ہے۔ ان افراد کو مبینہ طور پر جھوٹے وعدوں کے ذریعے بلوچستان بلایا گیا تھا اور پھر انہیں زبردستی، اسلحے کے زور پر، کھیتوں میں مشقت کرنے پر مجبور کیا گیا۔
تمام متاثرہ افراد کو لیویز تھانہ نال منتقل کیا گیا، جہاں ان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان افراد کو ہندو پنچایت کے سپرد کیا جائے گا۔
واقعے کی وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی ہے اور اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، ہندو پنچایت اور سول سوسائٹی نے بلوچستان حکومت کی بروقت کارروائی کو سراہا ہے۔
سینیٹر دنیش کمار نے اس موقع پر کہا کہ اقلیتوں کے خلاف اس نوعیت کے مظالم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے، اور وزیر اعلیٰ کی فوری اور مؤثر کارروائی قابل تعریف ہے۔

