جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیچین کی معیشت 2025 کی پہلی ششماہی میں 5.3 فیصد بڑھ گئی

چین کی معیشت 2025 کی پہلی ششماہی میں 5.3 فیصد بڑھ گئی
چ

بیجنگ (مشرق نامہ) – تمام پیش گوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے، چین کی معیشت نے 2025 کی پہلی ششماہی میں سال بہ سال 5.3 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے۔ نیشنل بیورو آف اسٹیٹسٹکس (NBS) کے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، یہ نمو ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے جب بیجنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے بعد اپنی تجارتی حکمتِ عملی کو از سرِ نو ترتیب دیا۔

بیجنگ نے وقت سے پہلے اقدامات کرتے ہوئے امریکی تجارتی دباؤ کا مقابلہ کیا، سپلائی چینز کو دوبارہ منظم کیا، امریکی منڈی پر انحصار کم کر کے برآمدی دائرہ وسیع کیا، اور ملکی طلب کو مضبوط کر کے ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھا۔

مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا حجم اب 66,053.6 ارب یوآن (9.1 کھرب ڈالر) تک پہنچ چکا ہے، جو عالمی اقتصادی دباؤ کے باوجود چین کی معاشی لچک کا مظہر ہے۔ یہ 5.3 فیصد ترقی ان 40 ماہرین کی اوسط پیش گوئی (5.1 فیصد) سے زیادہ ہے جن سے رائٹرز نے رائے لی تھی۔

NBS کے ڈپٹی کمشنر شینگ لائی یون نے کہا، یہ ایک محنت سے حاصل شدہ کامیابی ہے، خاص طور پر دوسرے سہ ماہی سے جاری بین الاقوامی غیر یقینی صورتحال اور بیرونی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے. انہوں نے اس کارکردگی کا سہرا مستحکم معاشی پالیسیوں، ہائی ٹیک صنعتوں کی قیادت میں صنعتی نمو اور 68.8 فیصد اندرونی طلب کو دیا۔

تفصیلات کے مطابق، پرائمری انڈسٹری نے 3,117.2 ارب یوآن کا حصہ ڈالا، جو 3.7 فیصد سالانہ اضافہ ہے اور زیادہ تر زرعی استحکام کی وجہ سے ہے۔ سیکنڈری انڈسٹری کا حجم 23,905 ارب یوآن رہا، جس میں 5.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ سروسز سیکٹر نے سب سے زیادہ 39,031.4 ارب یوآن کا حصہ ڈالا، جس میں سالانہ 5.5 فیصد کی نمو ہوئی۔

2025 کی پہلی سہ ماہی میں GDP سالانہ 5.4 فیصد اور دوسری میں 5.2 فیصد بڑھی، جو مسلسل عالمی مالیاتی اتھل پتھل اور ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کے باوجود استحکام کا اظہار ہے۔ چین کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اب بھی مینوفیکچرنگ سیکٹر ہے؛ صنعتی پیداوار میں جون کے دوران سالانہ 6.8 فیصد اضافہ ہوا، جو مئی کے 5.8 فیصد کے مقابلے میں نمایاں ہے۔

ہائی ٹیک انڈسٹریز، نئی توانائی والی گاڑیاں اور روبوٹکس جیسے شعبے ترقی کے بڑے محرک ثابت ہوئے، جو تکنیکی خود کفالت اور صنعتی ترقی پر چین کے اسٹریٹجک فوکس کی علامت ہیں۔ چین من شینگ بینک کے چیف اکنامسٹ وین بن کے مطابق، چین سائنس و ٹیکنالوجی میں خود کفالت اور برتری کے اعلیٰ درجے کا حصول جاری رکھے گا. انہوں نے ٹیکنالوجی بانڈ بورڈ اور دیگر مالیاتی آلات کو بھی اس رجحان کو تیز کرنے والے اقدامات قرار دیا۔

جون میں ہائی ٹیک صنعتی پیداوار میں 9.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ الیکٹرک گاڑیاں، لیتھیم بیٹریاں اور اعلیٰ درجے کی مشینری جیسے شعبوں میں ملکی و عالمی سطح پر مسلسل طلب دیکھی گئی۔

چینی حکومت نے صنعتی اختراع کو فروغ دینے کے لیے مخصوص شعبوں کے لیے سبسڈیز، ٹیکس میں چھوٹ اور سرمایہ کاری کے محرکات متعارف کرائے، جنہوں نے ترقی کی رفتار کو مزید تقویت دی۔ پیکنگ یونیورسٹی کے ماہرِ اقتصادیات کاو ہیپنگ کے مطابق، ڈیجیٹل اور گرین ٹیکنالوجیز کے استعمال سے صنعتوں میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی، جو چین کی تکنیکی ترقی کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے۔

عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال کے باوجود، چینی برآمد کنندگان نے بین الاقوامی طلب کی بحالی اور امریکہ کے ساتھ قلیل مدتی تجارتی جنگ بندی سے فائدہ اٹھایا۔ جون 2025 میں برآمدات میں سالانہ 5.8 فیصد اضافہ ہوا، جو مئی کے 4.8 فیصد کے بعد بہترین کارکردگی ہے — یہ وسط 2024 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

فورم 50 برائے ڈیجیٹل و حقیقی معیشت کے انضمام کے نائب سیکرٹری جنرل ہو کیمو کے مطابق، پہلی ششماہی میں GDP کی ترقی چین کی معیشت کی مضبوط لچک کو ظاہر کرتی ہے، جو اس کے جامع صنعتی نظام اور وسیع منڈی پر مبنی ہے۔

2025 کی پہلی ششماہی میں چین کی مجموعی برآمدات تقریباً 6 فیصد بڑھیں، جس سے 586 ارب ڈالر کا صحت مند تجارتی سرپلس حاصل ہوا۔ جنوب مشرقی ایشیاء کو برآمدات میں 16.8 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جو علاقائی شراکت داری، خصوصاً "ریجنل کمپری ہینسو اکنامک پارٹنرشپ” (RCEP) کے ذریعے تعاون کا نتیجہ ہے۔

چین کی بڑی مقامی منڈی معیشت کے طویل مدتی استحکام کی بنیادی ستون بنی ہوئی ہے۔ جون میں ریٹیل سیلز میں 4.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مئی میں یہ اضافہ 6.4 فیصد رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ سست روی صارفین کی محتاط روش اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں تدریجی توازن کا نتیجہ ہے۔

اس کے باوجود، حکومت کی جانب سے ماحول دوست آلات، الیکٹرک گاڑیوں اور دیہی ترقی کے لیے سبسڈیز جیسے اقدامات نے صارفین کے اعتماد کو سہارا دیا۔ گھریلو آلات کی ’’ٹریڈ اِن‘‘ اسکیم اور گاڑیوں کی تبدیلی کے لیے مراعات بھی متعارف کرائی گئیں۔

سروسز سیکٹر نے بھی پہلی ششماہی میں 5.5 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا، جس میں ٹرانسپورٹ، مالیات، صحت اور انٹرنیٹ خدمات جیسے شعبے شامل ہیں۔ اب خدماتی شعبہ چین کے GDP کا تقریباً 60 فیصد بن چکا ہے، جو ملک کے صارفین پر مبنی معیشت میں تبدیلی کی علامت ہے۔

پالیسی سازوں نے محتاط مگر پرعزم حکمت عملی اختیار کی۔ پیپلز بینک آف چائنا نے سال کے آغاز میں شرحِ سود کم کی اور لیکویڈیٹی بڑھا کر کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا۔

مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے انفراسٹرکچر، ہائی ٹیک صنعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی معاونت پر توجہ دی گئی۔ شنگھائی یونیورسٹی کے پروفیسر ژی جون یانگ کے مطابق، چین کی موجودہ معاشی کارکردگی ایک واضح بحالی ہے، جو منظم مالیاتی اقدامات اور بلند سرکاری اخراجات کی مرہونِ منت ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ حکمتِ عملی معیشت کی داخلی صحت پر اعتماد ظاہر کرتی ہے اور کریڈٹ کے بے جا پھیلاؤ سے گریز کرتی ہے۔ اس بنیاد پر، عالمی مالیاتی اداروں جیسے گولڈمین سیکس، ڈوئچے بینک اور مورگن اسٹینلے نے چین کی 2025 کی شرح نمو کے تخمینے بلند کر دیے ہیں۔

مقامی حکومتوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کو تیز کریں اور ڈیجیٹل معیشت مراکز و قابل تجدید توانائی منصوبوں جیسے اسٹریٹجک منصوبے جلد از جلد شروع کریں۔ مئی 2025 میں امریکہ کے ساتھ ہونے والی تجارتی جنگ بندی نے چینی برآمدات کو وقتی ریلیف فراہم کیا ہے۔

ماہرین کو توقع ہے کہ سالانہ ترقی 5 سے 5.2 فیصد کے درمیان رہے گی، جو حکومتی ہدف سے کچھ زیادہ ہے۔ ان کے خیال میں چین کی جدت پر مبنی، معیاری ترقی کی پالیسی طویل المدتی معاشی بنیاد کو مضبوط بنا رہی ہے۔ ملکی طلب کو بڑھانے، گرین ٹیکنالوجی کو فروغ دینے اور جائیداد کے شعبے کو مستحکم کرنے کے حکومتی اقدامات اس اقتصادی رفتار کو سہارا دے رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین