اسلام آباد(مشرق نامہ):پاکستان نے افغانستان میں عبوری حکومت کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی کرنے کی پیشکش کی ہے جو خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ پیشکش وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو کابل کے دورے کے دوران طالبان حکام کے ساتھ اہم ملاقاتوں میں کی۔
یہ دورہ ان کوششوں کا حصہ ہے جن کے تحت پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو دوبارہ استوار کیا جا رہا ہے، خاص طور پر سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے پر پیش رفت کے لیے۔ وزیر داخلہ نقوی کے ساتھ افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ سفیر محمد صادق خان اور سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔
نقوی نے افغان عبوری وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے ملاقات کی، جس میں دہشت گردی، سرحدی نظم و نسق، اور افغان مہاجرین کی واپسی جیسے موضوعات پر بات چیت ہوئی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں سب سے اہم معاملہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کی افغانستان میں موجودگی کا تھا۔
محسن نقوی نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان افغانستان کو برادر ہمسایہ ملک سمجھتا ہے، مگر دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں دوطرفہ تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
ان کا کہنا تھا:دہشت گرد تنظیمیں خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں، ہمیں انہیں مل کر روکنا ہوگا۔
وزارت داخلہ کے اعلامیے کے مطابق دونوں وزرائے داخلہ نے انسداد دہشت گردی، سرحدی دراندازی، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور افغان شہریوں کی واپسی کے معاملات پر تفصیل سے بات کی۔ ساتھ ہی دونوں فریقین نے پرامن بقائے باہمی، استحکام، اور باہمی تعاون کے فروغ پر زور دیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ:پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ اور دیرپا تعلقات کا خواہاں ہے۔ ہم نے دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، اور آج بھی قانونی طور پر افغان شہریوں کے لیے دروازے کھلے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ مہینوں میں کشیدہ رہے، تاہم دونوں ممالک نے اب روابط کی بحالی کی نئی کوششیں شروع کی ہیں۔ اپریل میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورہ کابل کے بعد افغان حکومت نے ٹی ٹی پی پر جزوی اقدامات کیے، جن میں افغان شہریوں کی تنظیم میں شمولیت پر کریک ڈاؤن شامل تھا۔
تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مکمل اعتماد کی بحالی کے لیے افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف مزید سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔
دریں اثنا، دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے جاری رہیں گے، اور توقع ہے کہ جلد ہی افغان عبوری وزیر خارجہ امیرخان متقی بھی اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔

