امریکہ (مشرق نامہ)حال ہی میں جو نیا خودکش ڈرون LUCAS کے نام سے متعارف کرایا ہے، وہ حیران کن طور پر ایران کے مشہور شہید ڈرون سے مشابہت رکھتا ہے — یہ محض تکنیکی اتفاق نہیں، بلکہ ایک غیر علانیہ اعتراف ہے کہ ایران نے عسکری ٹیکنالوجی میں ایک ایسا مقام حاصل کر لیا ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت بھی نظرانداز نہیں کر سکتی۔ چند سال قبل تک جن ایرانی ڈرونز کا مغربی میڈیا میں مذاق اڑایا جاتا تھا، آج انہی ماڈلز کی نقل امریکہ خود تیار کر رہا ہے، چاہے وہ زیادہ مہنگے، بھاری اور کم موثر کیوں نہ ہوں۔
یہ حقیقت اس بات کی علامت ہے کہ ایران نے نہ صرف مغربی پابندیوں کے باوجود خود کفالت حاصل کی، بلکہ میدانِ جنگ میں بھی اپنی ٹیکنالوجی کی افادیت ثابت کی۔ شہید 136 جیسے کامی کازی ڈرونز نے حالیہ برسوں میں یوکرین، اسرائیل، اور خلیجی خطے میں اپنی مؤثریت دکھائی، جس کے بعد دنیا بھر میں ان کی مانگ میں اضافہ ہوا۔
امریکی فوج کی طرف سے اس ڈرون ٹیکنالوجی کو اپنانا اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ عسکری میدان میں طاقت صرف جدیدیت سے نہیں، بلکہ سادگی، کم لاگت اور زمینی مؤثریت سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے — اور ایران نے یہ سبق دنیا کو سکھا دیا ہے۔ شہید ڈرون اب صرف ایک ہتھیار نہیں بلکہ خودانحصاری، مزاحمت اور تخلیقی دفاع کا عالمی نشان بن چکا ہے۔

