مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ماہها کی خاموشی اور بے اثر بیانات کے بعد، گلوبل ساؤتھ کی متعدد ریاستوں نے اسرائیل کے خلاف ایک تاریخی اور فیصلہ کن اقدام اٹھایا ہے، جس کا مقصد غزہ میں جاری نسل کشی، جنگی جرائم، اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر قانونی اور معاشی دباؤ ڈال کر اسرائیل کے طویل استثنیٰ (impunity) کو توڑنا ہے۔ یہ پیش رفت کولمبیا کے شہر بوگوٹا میں 15 اور 16 جولائی 2025 کو ہونے والی ہيگ گروپ کی ہنگامی کانفرنس کے دوران سامنے آئی، جس میں چین، برازیل، ترکی، قطر سمیت 30 سے زائد ممالک نے شرکت کی۔
کانفرنس کے اختتام پر 12 ممالک—جن میں جنوبی افریقہ، کولمبیا، ملائیشیا، عراق، انڈونیشیا، کیوبا، اور دیگر شامل ہیں—نے باقاعدہ طور پر ایک چھ نکاتی منصوبہ منظور کیا، جس میں اسرائیل پر اسلحہ کی پابندی، فوجی جہازوں پر بندرگاہوں کی بندش، جنگی ساز و سامان کی منتقلی پر مکمل روک، اسرائیل سے جڑے کاروباری معاہدوں کا جائزہ، اور جنگی جرائم پر عالمی سطح پر قانونی کارروائی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان ممالک نے عالمی دائرہ اختیار (universal jurisdiction) کے تحت اسرائیلی مجرموں کے خلاف کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔
یہ تمام اقدامات اس طرز عمل سے یکسر مختلف ہیں جو اب تک بڑی عالمی طاقتوں، خصوصاً مغربی ممالک کی طرف سے اپنایا گیا—جنہوں نے یا تو اسرائیل کو فوجی امداد دی یا اس کے خلاف قانونی احتساب کو روکا۔ اس کے برعکس، گلوبل ساؤتھ کی یہ نئی قیادت واضح پیغام دے رہی ہے کہ فلسطینی عوام کا خون بے حیثیت نہیں، اور انسانی حقوق کو اب سیاسی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جائے گا۔
یہ منصوبہ صرف اسرائیل کے خلاف ردعمل نہیں بلکہ بین الاقوامی انصاف کی بالادستی کا امتحان بھی ہے۔ جیسا کہ کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے کہا، کوئی بھی ریاست قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔ اس اقدام سے دنیا بھر میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اگر یہ محاذ مؤثر رہا تو شاید پہلی بار اسرائیل کو حقیقی قانونی اور معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا—اور فلسطینیوں کو دہائیوں بعد انصاف کی ایک کرن دکھائی دے گی۔

