شام(مشرق نامہ)اسرائیل کی جانب سے حالیہ جنگ بندی کو بظاہر امن کی جانب ایک قدم سمجھا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک گہری اور خطرناک تسلط پسند حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسرائیل نے جنوبی شام اور دمشق میں بمباری کے بعد سیزفائر کا اعلان کیا، جسے اُس نے دروز اقلیت کے تحفظ کے نام پر جواز فراہم کیا۔ تاہم، تجزیہ نگاروں کے نزدیک یہ صرف ایک دکھاوا ہے، جس کا مقصد علاقے میں اپنی سیاسی و عسکری برتری کو مستحکم کرنا اور عالمی سطح پر اپنے جارحانہ اقدامات کو جائز قرار دینا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل نے سیزفائر کا سہارا لے کر وقتی خاموشی پیدا کی ہو؛ ماضی میں بھی ایسی جنگ بندیاں صرف طاقت سمیٹنے اور دوبارہ حملے کی تیاری کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں بھی یہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ سیزفائر ایک "تزویراتی وقفہ (strategic pause) ہے، جس کا مقصد نہ صرف شام کے داخلی تنازعات کو مزید گہرا کرنا ہے بلکہ خطے میں اسرائیلی اثر و رسوخ کو وسعت دینا بھی ہے۔
اس جنگ بندی میں امریکی کردار بھی واضح ہے، جو بظاہر ثالثی کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر اسرائیلی عزائم کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے شام میں موجودگی کو انسانی ہمدردی کے پردے میں پیش کرنا محض ایک سیاسی چال ہے — جس کا مقصد بین الاقوامی دباؤ سے بچنا اور اندرونی شورش کو اپنے حق میں استعمال کرنا ہے۔
یہ جنگ بندی دراصل امن کا راستہ نہیں بلکہ خطے میں ایک نئے مرحلے کی شروعات ہو سکتی ہے، جہاں اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کی تکمیل کے لیے سفارتی پردوں میں چھپی جارحیت کو جاری رکھے گا۔ اگر مسلم دنیا اور عالمی برادری نے بروقت اور دانشمندانہ انداز میں اس چال کو نہ پہچانا تو شام کے بعد دیگر ریاستیں بھی اسی حکمت عملی کا شکار ہو سکتی ہیں۔

