مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)27 جون کو رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جرمنی کی ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر میکے کمپ نے ایپل اور گوگل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چینی AI اسٹارٹ اپ DeepSeek کی ایپلی کیشن کو جرمنی کے ایپ اسٹورز سے ہٹا دیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ DeepSeek مبینہ طور پر یورپی صارفین کا ذاتی ڈیٹا غیر قانونی طور پر چین منتقل کر رہا ہے، جو یورپی یونین کے سخت ڈیٹا پروٹیکشن قوانین (GDPR) کی خلاف ورزی ہے۔ گوگل نے اس نوٹس کو موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ایپل کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
دوسری جانب چین نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمانوں نے واضح کیا ہے کہ چین اپنے ڈیٹا پرائیویسی قوانین پر مکمل عمل کرتا ہے اور کبھی بھی کسی کمپنی یا فرد کو غیر قانونی ڈیٹا اکٹھا کرنے یا شیئر کرنے کا حکم نہیں دیتا۔ چین نے AI کے میدان میں ڈیٹا سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے 2023 میں Generative AI Services” سے متعلق عبوری ضوابط جاری کیے، جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ AI سروس فراہم کرنے والے صارف کے ڈیٹا کو قانونی، شفاف اور محدود طریقے سے استعمال کریں گے۔
چین نے بیجنگ میں Artificial Intelligence Data Training Base بھی قائم کیا ہے، جو ملکی سطح پر پہلا ایسا ادارہ ہے جہاں ریگولیٹری سینڈباکس، شفاف ڈیٹا پالیسی، اور تکنیکی حفاظتی اقدامات کے تحت AI ماڈلز کی تربیت کی جاتی ہے۔ یہاں طبی، سرکاری اور آٹونومس ڈرائیونگ جیسے شعبوں سے ڈیٹا استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ قانونی دائرے میں رہ کر ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ صورت حال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ جہاں یورپی ممالک سکیورٹی خدشات کے باعث چینی AI ایپس پر سخت اقدامات کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں چین نے نہ صرف قانونی فریم ورک تشکیل دیا ہے بلکہ اس پر سختی سے عمل درآمد بھی کر رہا ہے۔ یہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل خودمختاری، ڈیٹا تحفظ، اور ٹیکنالوجی کی سیاست کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی ایک اور جھلک ہے۔

