مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)شنگھائی میں دماغ سے بات کرنے والی ٹیکنالوجی میں ایک انقلابی پیشرفت سامنے آئی ہے، جس میں چینی سائنس دانوں اور کلینیکل نیورولوجسٹس کے ایک گروپ نے برین-کمپیوٹر انٹرفیس (BCI) ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی خیالات کو براہ راست روان چینی جملوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ اس کامیابی نے اُن مریضوں کے لیے نئی امید پیدا کی ہے جو فالج یا کسی اور بیماری کی وجہ سے بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ شنگھائی کے اسٹارٹ اپ "INSIDE” اور فوڈان یونیورسٹی کے ہواشان اسپتال کے تعاون سے ہونے والی اس تحقیق میں مرگی کے مریضوں کے دماغ میں برقی الیکٹروڈز نصب کیے گئے۔ محض 100 منٹ کی تربیت کے بعد، ایک ذہین سسٹم نے 54 چینی حروف سے وابستہ دماغی سرگرمیوں کو حقیقی وقت میں ڈی کوڈ کیا، جس کی بنیاد پر یہ سسٹم 1,951 عام چینی الفاظ کو درست طریقے سے پہچان کر آدھے سیکنڈ سے بھی کم وقت میں مکمل جملے بنا سکتا ہے۔ INSIDE کے چیف سائنٹسٹ لی منگ کے مطابق، مندارین زبان کی پیچیدہ آوازوں کو سمجھنا انگریزی سے کہیں زیادہ مشکل ہے، کیونکہ اس میں 400 سے زائد سلیبلز شامل ہیں۔
تحقیق کے لیے ہواشان اسپتال کے بنائے گئے دنیا کے سب سے بڑے دماغی لہروں کے ڈیٹا بیس کا استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے مصنوعی ذہانت نے آوازوں کے اجزاء کو 83 فیصد سے زائد درستگی کے ساتھ شناخت کیا۔ یہ صرف ایک تجربہ نہیں بلکہ چین میں BCI تحقیق کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا شعبہ ہے۔ اگست 2024 میں ہواشان اسپتال کے نیوروسرجنز نے 21 سالہ مریضہ کے دماغ میں 256-چینل BCI ڈیوائس نصب کی، جس کے بعد وہ صرف اپنے دماغ سے ٹیبل ٹینس اور کمپیوٹر گیمز کھیلنے کے قابل ہو گئی۔ جون 2025 میں ایک اور حیرت انگیز واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ایک شخص، جو 13 سال قبل ہائی وولٹیج حادثے میں اپنے چاروں اعضا کھو چکا تھا، نے محض دماغی احکامات کے ذریعے شطرنج اور ریسنگ گیمز کھیلے۔
محققین کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں صرف گفت و شنید تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سمارٹ گھروں کا کنٹرول، آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے فن پارے تخلیق کرنا، اور دیگر کئی شعبے اس کے دائرے میں آئیں گے۔ شنگھائی حکومت نے BCI کو مستقبل کی اسٹریٹجک صنعت قرار دیتے ہوئے انکیوبیٹرز اور اختراعی ماحولیاتی نظام قائم کرنا شروع کر دیا ہے، تاکہ 2030 تک یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر طبی شعبے میں ضم ہو سکے اور دنیا میں دماغی کنٹرول کے جدید ترین حل پیش کیے جا سکیں۔

