مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)چینی ایٹامک انرجی اتھارٹی (CAEA) نے اعلان کیا ہے کہ چین نے شمال مغربی صوبہ سنکیانگ کے تَریم بیسن کے صحرائی علاقے میں 1,820 میٹر کی گہرائی میں دنیا کی سب سے گہری سینڈسٹون طرز کی صنعتی یورینیم معدنی تہہ دریافت کی ہے۔
یہ صنعتی یورینیم کی وہ پہلی بڑی اور گاڑھی تہہ ہے جو تَریم بیسن کے غیرآباد اور صحرائی مرکز میں موجود سرخ تہہ (red variegated layer) میں دریافت ہوئی ہے۔ یہ دریافت چین کے سب سے بڑے صحرائی خطے میں معدنی تلاش کے میدان میں ایک بڑا خلا پُر کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق صنعتی یورینیم معدنیات کی دریافت ایسے ذخائر کی تلاش کے لیے ایک براہِ راست اور قابلِ اعتماد اشارہ ہوتی ہے۔
چینی جوہری سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس دریافت کے ساتھ چین نے صحرا سے ڈھکے علاقوں میں یورینیم کی تلاش کے لیے ماحول دوست اور مؤثر تکنیکی نظام بھی کامیابی سے متعارف کروایا ہے۔ اس سے یورینیم کی تلاش کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی اور ملکی جوہری صنعت کی پائیدار ترقی کی بنیاد مضبوط ہو گی۔
چین نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن (CNNC) کے پرنسپل محقق قن منگ کوان نے کہا:ہم نے تَریم بیسن میں مختلف پیمانے پر معدنی امکانات کی پیش گوئیاں کیں، جن کی بنیاد پر ہم نے ریموٹ سینسنگ، ارضی طبیعیات، کیمیاوی تجزیہ اور دیگر اقدامات کیے۔ بعد ازاں گہرائی میں ڈرلنگ سے تصدیق کی گئی، اور بالآخر ہم نے صحرا کے قلب میں گاڑھی صنعتی یورینیم کی تہہ دریافت کی، جو انتہائی اہمیت اور روشن امکانات کی حامل ہے۔

