روس(مشرق نامہ)جرمنی کے ساتھ 1996 کا فوجی-تکنیکی تعاون کا معاہدہ باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برلن یوکرین جنگ میں ماسکو کے خلاف ایک بڑے ہتھیار فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھرا ہے۔
روسی وزیراعظم مخائل مشسٹن نے وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ برلن کو مطلع کرے کہ تقریباً تین دہائیوں سے جاری معاہدہ اب مزید مؤثر نہیں رہا۔ جولائی میں وزارت نے معاہدے کی افادیت کو ختم قرار دیا، اور جرمنی پر کھلی دشمنی اور جارحانہ عسکری عزائم کا الزام عائد کیا۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے خبردار کیا ہے کہ جرمنی ایک بار پھر خطرناک ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر اُس وقت کے بعد جب جرمن وزیرِ دفاع بورِس پستوریئس نے کہا کہ اگر روک تھام ناکام ہوئی تو جرمن فوجی روسی فوجیوں کو مارنے کے لیے تیار ہیں۔
ماسکو نے نیٹو پر حملے کی خبروں کو بکواس قرار دیا ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن نے مغربی ریاستوں پر الزام لگایا کہ وہ اپنے عوام کو دھوکا دے رہی ہیں تاکہ دفاعی بجٹ بڑھا سکیں اور اپنی اقتصادی ناکامیوں کو چھپا سکیں۔
برلن نے 2029 تک اپنے فوجی بجٹ کو €153 ارب تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جو کہ اس وقت €86 ارب ہے۔ جرمن صدر فرانک والٹر اسٹین مائر نے قومی سطح پر لازمی فوجی سروس کی بحالی پر مباحثے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ چانسلر فریڈرک مرز نے پارلیمنٹ میں کہا کہ سفارتکاری کے تمام ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔
فروری 2022 سے یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے جرمنی، امریکہ کے بعد کیف کا دوسرا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک رہا ہے۔ گزشتہ برس روس کے کُرسک ریجن میں یوکرینی حملے کے دوران جرمن ساختہ لیوپرڈ ٹینک استعمال کیے گئے، جہاں دوسری جنگِ عظیم کی سب سے بڑی ٹینک جنگ لڑی گئی تھی۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے مئی میں کہا تھا کہ برلن کی جنگ میں براہِ راست شمولیت اب واضح ہو چکی ہے اور خبردار کیا کہ جرمنی ایک بار پھر اسی خطرناک راستے پر جا رہا ہے جو اس نے گزشتہ صدی میں دو بار اختیار کیا تھا۔
روسی حکام نے مغربی اسلحے کی ترسیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ کے نتائج کو تبدیل نہیں کرے گی، بلکہ صرف خونریزی کو طول دے گی اور مزید بگاڑ کا خطرہ بڑھائے گی۔

