لندن (مشرق نامہ) – برطانیہ کے حساس اداروں کو تاریخ کے بدترین سیکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جہاں 100 سے زائد برطانوی خفیہ اہلکاروں، MI6 کے جاسوسوں اور اسپیشل فورسز کے کمانڈوز کی شناخت ایک بڑے ڈیٹا لیک کے باعث افشا ہو گئی۔ عدالت کے حکم پر برسوں دبائے گئے اس واقعے کی تفصیلات اب منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔
یہ افشا کاری دراصل برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے افغانستان میں کام کرنے والے تقریباً 19,000 افغان شہریوں کی ذاتی معلومات پر مشتمل ایک اسپریڈشیٹ کی غلطی سے ای میل کے ذریعے ترسیل سے شروع ہوئی۔ یہ وہ افغان شہری تھے جنہوں نے امریکہ کی قیادت میں جاری دو دہائیوں پر مشتمل جنگ کے دوران برطانیہ کے ساتھ تعاون کیا تھا اور طالبان کے ممکنہ انتقام کے پیشِ نظر برطانیہ میں پناہ کے لیے درخواست دے چکے تھے۔
2022 میں پیش آنے والے اس ڈیٹا لیک کی سنگینی اس وقت دوچند ہو گئی جب ایک افغان شہری نے اس ڈیٹا کا کچھ حصہ فیس بک پر شائع کرتے ہوئے بقیہ معلومات افشا کرنے کی دھمکی دی۔ برطانوی حکومت نے فوری طور پر عدالت سے سخت نوعیت کا "سپر انجنکشن” حاصل کر لیا، جس کی بنیاد پر میڈیا پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔
یہ عدالتی پابندی حال ہی میں جسٹس چیمبرلین نے ختم کی، جس کے بعد بی بی سی سمیت کئی اداروں نے انکشاف کیا کہ لیک شدہ فائلز میں MI6 کے جاسوسوں اور اسپیشل فورسز کے اہلکاروں کے نام بھی شامل تھے۔ اس افشا کاری کے نتیجے میں نہ صرف برطانیہ کی انٹیلی جنس کمیونٹی کی ساکھ کو دھچکا لگا بلکہ ہزاروں افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔
بی بی سی کے مطابق، متاثرہ افراد کو اس لیک کے بارے میں ابتدا میں اطلاع نہیں دی گئی، باوجود اس کے کہ ان کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق تھے۔ برطانوی حکومت نے خاموشی سے ایک خفیہ منتقلی منصوبہ تشکیل دیا، جس کے تحت اب تک 4,500 افغان شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کو برطانیہ منتقل کیا جا چکا ہے۔
جسٹس چیمبرلین کے مطابق اس اسکیم اور متاثرین کی آبادکاری پر آنے والی مجموعی لاگت کا تخمینہ سات ارب پاؤنڈ تک لگایا جا رہا ہے۔
برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے اس سنگین کوتاہی پر "دلی معذرت” کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ اس بات کی یقین دہانی نہیں کرا سکتے کہ آیا اس ڈیٹا لیک کے نتیجے میں کسی کی جان گئی یا نہیں۔

