چین (مشرق نامہ)پاکستانی طلبہ کے پہلے بیچ نے جدید زرعی تربیت کامیابی سے مکمل کر لی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں زرعی انقلاب کی بنیاد رکھنا ہے۔ یہ تربیتی پروگرام چین کے صوبہ شانشی میں دونوں ممالک کے باہمی تعاون سے منعقد کیا گیا، جس میں 300 پاکستانی ایگریکلچر گریجویٹس نے شرکت کی۔ تربیت میں طلبہ کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، پانی کے مؤثر استعمال، ڈرپ ایریگیشن، مویشی پالنے، زرعی نقصان میں کمی، فصلوں کی بعد از برداشت پروسیسنگ، اور زمین کی پیداوار بڑھانے کے جدید سائنسی طریقوں پر عملی تربیت دی گئی۔ اس پروگرام کا آغاز وزیرِاعظم شہباز شریف کے اعلان کے بعد ہوا تھا، جس میں ایک ہزار پاکستانی نوجوانوں کو چین بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ وہ وہاں سے جدید زرعی مہارتیں سیکھ کر واپس آ کر ملک کے زراعتی شعبے میں بہتری لا سکیں۔ تربیت مکمل کرنے والے طلبہ کا دوسرا بیچ بھی تیاری میں ہے جو چینی زبان سیکھنے کے بعد مختلف چینی جامعات میں داخلہ لے گا۔ وزیرِاعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ نوجوان پاکستان کی زرعی پالیسی اور پیداوار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ چینی حکومت، تعلیمی اداروں، صوبہ شانشی کی انتظامیہ، وزارت خوراک، ہائر ایجوکیشن کمیشن، اور پاکستانی سفارتخانے نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔ چینی سفارتخانے نے بھی تربیت مکمل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ نوجوان پاک چین زرعی تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔ واضح رہے کہ حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کا زرعی شعبہ جی ڈی پی کا تقریباً 24 فیصد ہے، لیکن مالی سال 2024-25 میں یہ شعبہ صرف 0.6 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکا، جو کہ ہدف سے بہت کم ہے۔ ایسے میں تربیت یافتہ نوجوانوں کی واپسی اور جدید معلومات کا اطلاق زرعی شعبے کی بحالی اور ترقی کے لیے ایک امید افزا قدم سمجھا جا رہا ہے۔

