جمعرات, فروری 19, 2026
ہومپاکستان14 سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں تبدیل

14 سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں تبدیل
1

کراچی / اسلام آباد(مشرق نامہ): پاکستان نے مالی سال 2024-25 میں 14 سال بعد پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا ہے، جو کہ مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ریکارڈ ترسیلات زر اور خدمات کے خسارے میں کمی کی بدولت ممکن ہوا۔

اس مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2.1 ارب ڈالر (یا جی ڈی پی کا 0.5 فیصد) رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں اسی مد میں 2.1 ارب ڈالر کا خسارہ (جی ڈی پی کا 0.6 فیصد) ریکارڈ کیا گیا تھا۔ صرف جون 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ 328 ملین ڈالر سرپلس میں رہا، جو مئی 2025 میں 84 ملین ڈالر کے خسارے اور جون 2024 میں 500 ملین ڈالر کے خسارے کے برعکس ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق یہ سرپلس پچھلے پانچ سال کے اوسط سالانہ خسارے 6 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 1.8 فیصد) کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی علامت ہے۔ ترسیلات زر میں 27 فیصد اضافہ اور خدمات کے خسارے میں 16 فیصد کمی اس بہتری کی بڑی وجوہات رہیں۔ البتہ اشیاء کے تجارتی خسارے میں 21 فیصد اضافہ ہوا جو بڑھ کر 27 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ خدمات کا خسارہ کم ہو کر 2.6 ارب ڈالر رہ گیا۔

مالی سال 2024-25 میں ترسیلات زر ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کی وجہ مالیاتی اداروں کو باضابطہ چینلز سے ترسیلات کو فروغ دینے کے لیے دی گئی مراعات، بیرون ملک افرادی قوت کی برآمد میں اضافہ، اور رسمی و غیر رسمی کرنسی ریٹس کے فرق میں کمی ہے۔

ان ترسیلات اور بین الاقوامی مالیاتی ذرائع سے حاصل شدہ رقم کی وصولی نے اسٹیٹ بینک کو 14 ارب ڈالر سے زائد کے زرمبادلہ ذخائر تک پہنچنے میں مدد دی۔

سال بھر میں اشیاء کی برآمدات 4 فیصد بڑھ کر 32.3 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ صرف جون میں برآمدات 2.6 ارب ڈالر (سال بہ سال 7 فیصد اضافہ) تک پہنچ گئیں۔ دوسری جانب، جون 2025 میں درآمدات 4.98 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 8 فیصد اضافہ اور گزشتہ ماہ سے 9 فیصد کمی ہے۔ مالی سال کے اختتام پر کل درآمدات 59.1 ارب ڈالر رہیں، جن میں 11 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام (ستمبر 2024 میں منظور شدہ) کے تحت مالیاتی استحکام کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، ماہرین اس رجحان کے جاری رہنے پر محتاط ہیں، کیونکہ حکومت کی جانب سے بینکوں کو دی جانے والی سبسڈی میں ممکنہ کمی سے ترسیلات متاثر ہو سکتی ہیں، اور درآمدات میں اضافہ بھی خدشات پیدا کر رہا ہے۔

ٹارس سیکیورٹیز کے تحقیقاتی سربراہ مصطفیٰ مستنصر کے مطابق اگلے مالی سال (2025-26) میں کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں جا سکتا ہے، جس کی وجہ مجموعی طلب میں بحالی ہے۔ ان کے مطابق اگلے سال کا ممکنہ خسارہ 2.4 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 0.6 فیصد) ہو سکتا ہے۔ ٹاپ لائن کا تخمینہ 0.5 سے 1.5 ارب ڈالر کے درمیان (جی ڈی پی کا 0.1 سے 0.3 فیصد) خسارے کا ہے۔


وزیرِاعظم شہباز شریف کا اظہارِ تشکر

وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس کامیابی پر قوم کو مبارکباد دی اور کہا کہ 2.1 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس گزشتہ 22 سال کا سب سے بلند ترین سرپلس ہے، جو حکومت کی بہتر حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات اور ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافے نے معیشت کو استحکام بخشا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔


الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے اقدامات

وزیرِاعظم نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کے فروغ سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہو گی بلکہ مقامی صنعت کو بھی فروغ ملے گا اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ عام ہو گی۔

اہم اعلانات میں شامل:

  • ملک بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے پوزیشن ہولڈرز طلبہ کو الیکٹرک بائیکس مفت دی جائیں گی۔
  • بے روزگار افراد کو الیکٹرک رکشے اور لوڈرز آسان شرائط پر دیے جائیں گے۔
  • ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور دیکھ بھال کا مکمل نظام قائم کیا جائے گا۔
  • شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ویری فکیشن کی جائے گی۔
  • معاشی طور پر کمزور طبقات کو اسکیم میں ترجیح دی جائے گی۔
  • عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی تاکہ لوگ حکومتی معاونت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
  • فراہم کی جانے والی گاڑیوں کے معیارات اور حفاظتی پہلوؤں کو یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت 100,000 سے زائد الیکٹرک بائیکس اور 300,000 سے زائد رکشے و لوڈرز آسان قرضوں اور کم قیمت پر عوام کو فراہم کرے گی۔ خواتین کے لیے 25 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے جبکہ صوبوں کو آبادی کے تناسب سے کوٹہ دیا گیا ہے، جس میں بلوچستان کا کوٹہ 10 فیصد کر دیا گیا ہے۔

وزیرِاعظم نے اس اسکیم کو جلد از جلد نافذ کرنے کی ہدایت کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین