جمعرات, فروری 19, 2026
ہومپاکستانالیکٹرک گاڑیوں پر نیا لیوی نافذ

الیکٹرک گاڑیوں پر نیا لیوی نافذ
ا

اسلام آباد(مشرق نامہ): حکومت پاکستان نے فنانس ایکٹ 2025 کے تحت ایک نیا ٹیکس متعارف کرایا ہے جسے انرجی وہیکل ایڈاپشن لیوی (Energy Vehicle Adoption Levy) کہا جا رہا ہے۔ اس ٹیکس کا مقصد روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی اور ملک میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام سے حکومت کو مالی سال 2025 میں 10 ارب روپے کی اضافی آمدن کی توقع ہے، جو کہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کی ترقی پر خرچ کی جائے گی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ لیوی تمام انٹرنل کمبسشن انجن (Internal Combustion Engine) والی گاڑیوں پر لاگو ہو گی، خواہ وہ پاکستان میں تیار کی گئی ہوں یا درآمد کی گئی ہوں۔ لیوی کی شرح انجن کی طاقت (سی سی) کے مطابق مختلف ہو گی:

مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کے لیے:

  • 1300 سی سی سے کم انجن: 1٪ ایڈ ویلورم لیوی انوائس قیمت (ڈیوٹی و ٹیکس سمیت) پر۔
  • 1300 سے 1800 سی سی تک انجن: 2٪ ایڈ ویلورم لیوی۔
  • 1800 سی سی سے زائد انجن: 3٪ ایڈ ویلورم لیوی۔

درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے:

  • 1300 سی سی سے کم انجن: 1٪ ایڈ ویلورم لیوی تخمینہ شدہ ویلیو (ڈیوٹی و ٹیکس سمیت) پر۔
  • 1300 سے 1800 سی سی تک انجن: 2٪ ایڈ ویلورم لیوی۔
  • 1800 سی سی سے زائد انجن: 3٪ ایڈ ویلورم لیوی۔

بسیں اور ٹرک (مقامی یا درآمدی):

  • انٹرنل کمبسشن انجن والی تمام بسوں اور ٹرکوں پر 1٪ ایڈ ویلورم لیوی لاگو ہو گی، خواہ وہ مقامی سطح پر تیار کی گئی ہوں یا بیرونِ ملک سے درآمد کی گئی ہوں۔

یہ نیا ٹیکس ان تمام گاڑیوں پر لاگو ہو گا جو روایتی ایندھن (پٹرول یا ڈیزل) سے چلتی ہیں، اور اس کا اطلاق الیکٹرک یا ہائبرڈ گاڑیوں پر نہیں ہو گا۔ حکومت کے مطابق، اس پالیسی کا مقصد نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا ہے بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کو بھی کم کرنا ہے، تاکہ پاکستان توانائی کے شعبے میں خودکفالت کی طرف قدم بڑھا سکے۔

یہ لیوی آئندہ چند ہفتوں میں نافذ العمل ہو جائے گی اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی ایف بی آر کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ یہ اقدام ماحولیاتی طور پر مثبت ہے، تاہم اس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے جس سے عام صارف متاثر ہو سکتا ہے

مقبول مضامین

مقبول مضامین