مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)پاکستان، افغانستان اور ازبکستان نے کابل میں ایک سہ فریقی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد تینوں ممالک کو ریلوے کے ذریعے آپس میں جوڑنا اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستان کی بندرگاہوں تک براہِ راست رسائی دینا ہے۔ یہ معاہدہ ازبکستان-افغانستان-پاکستان (UAP) ریلوے منصوبے کی مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی سے متعلق ہے، جس پر افغانستان کی وزارت تعمیرات عامہ، ازبکستان کی وزارتِ ٹرانسپورٹ، اور پاکستان کی وزارتِ ریلوے کے درمیان دستخط ہوئے۔ مجوزہ ریلوے لائن کی لمبائی تقریباً 640 کلومیٹر ہے، جو ازبک سرحدی شہر ترمز سے شروع ہو کر افغانستان کے شہر ہیراتان سے ہوتی ہوئی دارالحکومت کابل اور صوبہ لوگر تک جائے گی، اور پھر پاکستان کے ضلع کرم میں خَرلاچی کے راستے داخل ہوگی۔ اس منصوبے کا مقصد علاقائی تجارت، ترسیل اور رابطے کو فروغ دینا، معاشی ترقی کو ممکن بنانا اور خطے میں دیرپا استحکام لانا ہے۔
تقریب میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی اور ازبک وزیر خارجہ بختیار سعیدوف نے شرکت کی۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے افغان قیادت کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں، جن میں عبوری وزیر اعظم ملا حسن اخوند، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، امن و سلامتی، تجارتی و اقتصادی تعاون، اور علاقائی رابطوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ فریقین نے خطے میں معاشی امکانات کو عملی شکل دینے اور طویل المدتی ترقی کے لیے قریبی تعاون پر اتفاق کیا۔ اس منصوبے کو خطے میں اقتصادی انضمام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو افغانستان جیسے جنگ سے متاثرہ ملک کے لیے بھی بحالی اور خوشحالی کا راستہ ہموار کرے گا۔

