مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے اشیاء پر ایک فیصد واٹر اسٹوریج ٹیکس (سرچارج) عائد کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، جو بڑے آبی ذخائر جیسے دیامر بھاشا اور چناب ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے مقصد سے پیش کی گئی تھی۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ اس قسم کا خصوصی ٹیکس بجٹ کی لچک کو کم کرتا ہے اور قانونی و انتظامی مسائل پیدا کرتا ہے، اس کے برعکس اس نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اگر ترقیاتی اخراجات بڑھانا چاہتی ہے تو موجودہ 18 فیصد سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرے۔ حکومت چاہتی تھی کہ یہ ٹیکس ہر قابلِ ٹیکس مصنوعات پر نافذ ہو، سوائے بجلی اور ادویات کے، اور اس کی تمام آمدن وفاق کے خزانے میں جائے تاکہ صوبوں کے ساتھ حصہ داری سے بچا جا سکے۔ تاہم، آئی ایم ایف نے اس تجویز پر کئی اعتراضات اٹھائے، خاص طور پر واپڈا کو اس نئے ٹیکس کے کنٹرول دینے پر تحفظات ظاہر کیے۔ حکومت پہلے ہی پانی کے ترقیاتی بجٹ میں 28 فیصد کمی کر چکی ہے، جب کہ دیامر بھاشا، مہمند اور چناب ڈیمز کی مجموعی فنانسنگ ضروریات 1.35 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پانی روکنے کی دھمکیوں کے تناظر میں حکومت فوری اقدامات کی خواہاں ہے، مگر آئی ایم ایف کی مخالفت کے باعث مالیاتی حکمتِ عملی کو ازسرنو ترتیب دینا پڑ رہا ہے۔

