اسلام آباد(مشرق نامہ): سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان کو رواں مالی سال میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 23 ارب ڈالر سے زائد رقم واپس کرنا ہے۔
اس میں سے تقریباً 12 ارب ڈالر مختلف زمروں میں غیر ملکی ممالک کے ڈپازٹس کی شکل میں ہیں، جن میں سے دوستانہ ممالک سے ری شیڈولنگ (رول اوور) کی امید کی جا رہی ہے۔ تاہم باقی 11 ارب ڈالر کے قرضے عالمی مالیاتی اداروں، دو طرفہ قرض دہندگان، بین الاقوامی بانڈ ہولڈرز اور کمرشل بینکوں کو واپس کرنے ہیں۔
اگر کسی بھی دوست ملک نے ڈپازٹس کا رول اوور دینے سے انکار کیا تو پاکستان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
ستمبر 2025 میں 500 ملین ڈالر کا یوروبانڈ میچور ہو رہا ہے جس سے قرض کی ضروریات مزید بڑھ جائیں گی۔ حالیہ برسوں میں مہنگائی سے جی ڈی پی کے اعداد تو بڑھے، مگر اب افراطِ زر میں کمی اور کمزور معاشی ترقی کے سبب قرض بمقابلہ جی ڈی پی تناسب (Debt-to-GDP ratio) مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
حکام کے مطابق رواں مالی سال میں پبلک سیکٹر کے بیرونی قرضوں کی مجموعی ضرورت 15 ارب ڈالر ہے، جن میں 4 ارب ڈالر چین کے SAFE ڈپازٹس بھی شامل ہیں۔ باقی 9 ارب ڈالر کا قرضہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے کھاتوں میں ہے، جس میں آئی ایم ایف کے قرضے اور وہ غیر ملکی ڈپازٹس شامل ہیں جن پر بجٹ کے لیے روپے کا کور استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
ان ڈپازٹس میں 5 ارب ڈالر سعودی عرب، 2 ارب ڈالر یو اے ای، تقریباً 1 ارب ڈالر قطر اور 700 ملین ڈالر کویت سے ماضی کے ڈپازٹس شامل ہیں۔
رواں مالی سال میں:
- بانڈز کی ادائیگی: 1.7 ارب ڈالر (سود سمیت)
- کمرشل قرضے: 2.3 ارب ڈالر
- کثیرالجہتی ادارے (ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک وغیرہ): 2.8 ارب ڈالر
- دو طرفہ قرضے: 1.8 ارب ڈالر
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو مڈٹرم ڈیٹ اسٹریٹیجی (MTDS) پر بریفنگ دی گئی ہے، جس میں پانڈا بانڈ کے اجرا کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم کچھ تکنیکی رکاوٹیں حائل ہیں۔ عالمی سطح پر سود کی بلند شرح اور پاکستان کا بڑھا ہوا رسک پریمیم نئے یوروبانڈ یا سکوک کے اجرا کو مشکل بنا رہے ہیں، خاص طور پر موجودہ سیاسی کشیدگی کے ماحول میں۔

