جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیایم بی ڈی اے کے بم اسرائیلی حملوں میں بچوں کی شہادت...

ایم بی ڈی اے کے بم اسرائیلی حملوں میں بچوں کی شہادت سے منسلک
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– یورپ کے سب سے بڑے میزائل ساز ادارے ایم بی ڈی اے (MBDA) کی جانب سے اسرائیلی فضائی حملوں میں استعمال ہونے والے اہم بم اجزاء فراہم کیے جا رہے ہیں، جن حملوں میں فلسطینی بچوں اور عام شہریوں کی شہادتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

غزہ میں تباہی سے منافع کمانے والے یورپی اداروں پر بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں، دی گارڈین نے فرانسیسی تحقیقی ادارے Disclose اور Follow the Money کے ساتھ مل کر GBU-39 بم کی فراہمی کی زنجیر اور اس کے استعمال پر تحقیق کی ہے۔

ایم بی ڈی اے کا ایک کارخانہ امریکی ریاست الاباما میں واقع ہے، جہاں وہ "وِنگز” یعنی پر تیار کرتا ہے جو بوئنگ کے تیار کردہ GBU-39 بم میں نصب کیے جاتے ہیں۔ یہ پر بم داغے جانے کے بعد کھلتے ہیں اور ہدف تک رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

امریکہ میں واقع MBDA Inc. سے حاصل ہونے والی آمدنی MBDA UK کو منتقل کی جاتی ہے، جو یہ منافع فرانسیسی ہیڈکوارٹر MBDA کو منتقل کرتا ہے۔ گزشتہ برس MBDA نے اپنے تین بڑے حصص داروں — BAE Systems، Airbus، اور Leonardo — کو تقریباً 35 کروڑ پاؤنڈ منافع کی صورت میں ادا کیے۔

ستمبر میں، برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اسرائیل کو بعض اسلحہ جات کی برآمدات کے لائسنس معطل کر دیے تھے، کیونکہ ان سے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کا خطرہ موجود تھا، خاص طور پر ان اشیاء سے جو غزہ جنگ میں استعمال ہو سکتی تھیں۔

تحقیق میں اوپن سورس ڈیٹا اور اسلحہ ماہرین کی مدد سے یہ تصدیق کی گئی کہ GBU-39 بم 24 مختلف حملوں میں استعمال ہوا، جن میں عام شہریوں بشمول بچوں کی اموات ہوئیں۔ ان میں سے بیشتر حملے رات کے وقت اسکولوں اور پناہ گزین کیمپوں پر کیے گئے — اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہیں ممکنہ جنگی جرائم کے طور پر شناخت کیا ہے۔

MBDA نے بوئنگ کے ساتھ GBU-39 ونگز کے معاہدے کی تصدیق کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ متعلقہ قومی اور بین الاقوامی اسلحہ قوانین پر عمل کرتا ہے۔

مہم کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے اسلحہ کی برآمدات معطل کرنے کا اقدام ناکافی ہے، کیونکہ اس میں F-35 لڑاکا طیارے شامل نہیں، اور یہ صرف برطانوی برآمدات تک محدود ہے — جبکہ الاباما میں واقع MBDA کی امریکی شاخ بوئنگ کو اشیاء کی فراہمی جاری رکھ سکتی ہے۔

بین الاقوامی انسانی قانون شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کو ممنوع قرار دیتا ہے اور حملے سے قبل احتیاطی تدابیر کو لازم قرار دیتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈونیٹیلا روویرا نے زور دیا کہ شہریوں کو نقصان سے بچانے کی قانونی ذمہ داری میں ممکنہ صورتوں میں انخلا کی وارننگ شامل ہے۔

ٹریور بال، جو اسلحہ تحقیقاتی ادارے Armaments Research Services سے وابستہ ہیں، نے ان حملوں کی فہرست مرتب کی جن میں GBU-39 استعمال ہوا۔ انہوں نے بم کو اس کے مخصوص نشانات سے شناخت کیا جن پر "NO LIFT ON WINGS” لکھا ہوتا ہے، اور اس کی دم پر پنکھوں کی سلائیاں اور مخصوص بولٹس ہوتے ہیں۔

یہ بم امریکہ کے فوجی امدادی پروگرام کے تحت اسرائیل کو فراہم کیا جاتا ہے، جس میں بوئنگ سے براہِ راست خریداری اور امریکی ذخائر سے منتقلی شامل ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد اب تک تقریباً 4,800 بم اسرائیل کو بھیجے جا چکے ہیں، جن میں سے تازہ ترین کھیپ — 2,166 بم — فروری میں روانہ کی گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کا تقریباً 70 فیصد علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

GBU-39 ایک ہلکا بم ہے جس کا وزن 250 پاؤنڈ سے کم ہوتا ہے۔ اسے لڑاکا طیارے سے داغا جاتا ہے اور یہ ایک یا دو منزلہ عمارت کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے — جسے امریکی محکمہ خارجہ نے اس جنگ کے ابتدائی دنوں میں استعمال ہونے والے بھاری بموں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور "کم نقصان دہ” متبادل کے طور پر پیش کیا۔

تاہم بند مقامات پر یہ بم مہلک آگ بھڑکاتا ہے۔ نومبر 2023 سے مئی 2024 کے درمیان 24 تصدیق شدہ حملوں میں کم از کم 500 افراد شہید ہوئے، جن میں 100 سے زائد بچے شامل تھے۔

پہلا تصدیق شدہ واقعہ 2 نومبر کو برج کیمپ میں پیش آیا، جہاں کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، اسرائیلی جیٹ طیاروں نے وہاں کم از کم چار GBU-39 بم گرائے۔ ابتدائی اطلاعات میں 15 شہادتوں کی تصدیق کی گئی، جن میں نو بچے شامل تھے، اور بعد میں یہ تعداد مزید بڑھی۔

اعداد و شمار کے مطابق، 2023 کے مقابلے میں 2024 میں GBU-39 کا استعمال کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ ان میں سے سب سے خونی حملہ 26 مئی کو رفح کے کویتی پیس کیمپ 1 پر ہوا، جس میں بمباری سے خیموں میں آگ لگ گئی۔ ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق، ایک شیر خوار بچہ اور ایک عورت بم کے ٹکڑوں سے سر کٹنے کے باعث شہید ہوئے، جب کہ غزہ کی وزارت صحت نے 45 شہادتیں اور 249 زخمیوں کی تصدیق کی۔

ٹریور بال نے کہا کہ GBU-39 بم خاص طور پر اسکولوں اور ان علاقوں کو نشانہ بنانے میں استعمال ہوئے جہاں لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔

تصدیق شدہ حملوں میں 16 اسکول شامل ہیں، جو اب بے گھر فلسطینیوں کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ دیگر حملوں میں خیمہ کیمپ، رہائشی مکانات اور صبح کی نماز کے دوران ایک مسجد شامل ہے۔

اگرچہ MBDA Inc. کے مالیاتی گوشوارے عوامی سطح پر دستیاب نہیں، تاہم اس کی آمدنی MBDA UK میں ضم ہوتی ہے، جو اسے مرکزی گروپ کو منتقل کرتی ہے۔ 2023 کی مالی رپورٹ کے مطابق، MBDA UK گروپ کی 40 فیصد سے زائد آمدنی میں حصہ دار ہے۔ MBDA کا مجموعی کاروبار 2024 میں 4.2 ارب پاؤنڈ تک پہنچ چکا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین