جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیبوگوٹا اجلاس: اسرائیل کے احتساب کیلئے 12 ممالک کا مشترکہ اعلان

بوگوٹا اجلاس: اسرائیل کے احتساب کیلئے 12 ممالک کا مشترکہ اعلان
ب

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے بارہ ممالک کے اتحاد نے کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں منعقدہ اجلاس کے دوران اسرائیل کو اس کے غزہ میں جرائم پر جواب دہ بنانے کے لیے ہتھیاروں کی ترسیل پر پابندی سمیت چھ اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔

دو روزہ کانفرنس بدھ کے روز اس اعلامیے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ تقریباً دو درجن ممالک نے ان اقدامات کی منظوری دی ہے جن کا مقصد "فلسطینی مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی حملے کو روکنا” ہے۔

اس فہرست میں شامل ممالک میں بولیویا، کولمبیا، کیوبا، انڈونیشیا، عراق، لیبیا، ملیشیا، نمیبیا، نکاراگوا، عمان، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گرینیڈائنز اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

دی ہیگ گروپ کی ایگزیکٹو سیکریٹری ورشا گندیکوٹا نیلوتلا نے کہا کہ ہم بھیک مانگنے نہیں بلکہ قیادت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ آج بے حسابی کے دور کا اختتام اور با ضمیر حکومتوں کے اجتماعی اقدام کا آغاز ہے۔

دی ہیگ گروپ کا قیام جنوری میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد عالمی جنوب (Global South) کے ممالک کو یکجا کر کے اسرائیل پر غزہ میں جنگ اور فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

جن چھ اقدامات کا اعلان کیا گیا ان میں اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی، اسلحہ لے جانے والے بحری جہازوں پر پابندی، اور سرکاری معاہدوں کا جائزہ شامل ہے تاکہ ایسے اداروں کی نشان دہی ہو سکے جو اسرائیلی قبضے سے منافع حاصل کر رہے ہیں۔

یہ اقدامات اس چیز پر بھی زور دیتے ہیں کہ یونیورسل جُرِسڈِکشن مینڈیٹ یعنی عالمی دائرۂ اختیار کی حمایت کی جائے تاکہ عالمی جرائم کے مرتکب افراد کو، خواہ وہ دنیا میں کہیں بھی ہوں، انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

الجزیرہ کے نمائندے الیساندرو رامپیئٹی نے بوگوٹا سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں شریک مندوبین ان اقدامات کو اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سب سے جرأت مندانہ اور ہم آہنگ بین الاقوامی منصوبہ قرار دے رہے ہیں۔

تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان اقدامات پر دستخط کرنے والے 12 ممالک، بوگوٹا اجلاس میں شرکت کرنے والے 30 میں سے نصف سے بھی کم ہیں۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے معیشت رکھنے والے یہ ممالک اسرائیل کو اس کی عسکری مہم سے روکنے میں کس حد تک مؤثر ہو سکیں گے، جب کہ اسرائیل کو امریکہ کی جانب سے اربوں ڈالر کی امداد حاصل ہے۔

اسرائیل نے اب تک عالمی سطح پر ہونے والی مذمت کے باوجود غزہ پر حملوں میں کوئی نرمی نہیں دکھائی، حالانکہ اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور بڑی انسانی حقوق کی تنظیمیں ان حملوں کو نسل کشی سے تعبیر کر چکی ہیں۔

اسرائیلی افواج اب بھی فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر رہی ہیں اور انہیں خوراک، ایندھن اور پانی تک رسائی سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک کم از کم 58,573 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

اگرچہ اس ہفتے کے اجلاس میں شریک زیادہ تر ممالک نے بدھ کو منظور کیے گئے اقدامات پر فوری طور پر دستخط نہیں کیے، تاہم دی ہیگ گروپ کو امید ہے کہ آئندہ مہینوں میں مزید ممالک اس میں شامل ہوں گے۔

گروپ کے بیان کے مطابق٬ اب دنیا بھر میں دارالحکومتوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے 20 ستمبر کی ڈیڈ لائن بھی مقرر کی ہے، جو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے آغاز سے منسلک ہے۔

کانفرنس میں شریک دیگر رہنماؤں نے ان چھ اقدامات کو اسرائیلی بے حسابی کے خلاف ایک بڑے عالمی منصوبے کا حصہ قرار دیا۔

اقوامِ متحدہ میں فلسطینی مقبوضہ علاقوں کے لیے خصوصی نمائندہ فرانچیسکا البانیزے نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزرائے کرام، سچ یہ ہے کہ فلسطین پہلے ہی انقلاب کی چنگاری جلا چکا ہے، اور آپ سب اس کا حصہ ہیں۔ فلسطین نے عالمی شعور کو جھنجھوڑا ہے، اور ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے — ایک طرف وہ جو نسل کشی کے مخالف ہیں، اور دوسری طرف وہ جو اس میں شریک یا خاموش ہیں۔

واضح رہے کہ البانیزے کو اسرائیلی اقدامات پر شدید تنقید کرنے پر حال ہی میں امریکہ نے پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ اجلاس ایک علامت بن چکا ہے — غیر مغربی ممالک کی طرف سے بڑھتے ہوئے مطالبات کی علامت کہ دنیا کے رہنما غزہ میں بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائیں، جہاں اسرائیل پر انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا الزام ہے۔

جنوبی افریقہ اور کولمبیا جیسے ترقی پذیر ممالک اس عالمی احتسابی تحریک میں صفِ اول میں ہیں۔ جنوبی افریقہ نے دسمبر 2023 میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں دائر کیا، جب کہ کولمبیا نے مئی 2024 میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا۔

کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم یہاں بوگوٹا میں تاریخ رقم کرنے آئے تھے — اور ہم نے کر دی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین