پیرس (مشرق نامہ) – فرانس کی ایک اپیل عدالت نے فلسطینی مزاحمت کے حامی لبنانی جنگجو جارج ابراہیم عبد اللہ کی مشروط رہائی کا حکم دے دیا ہے، جو 40 برس سے قید ہیں۔ رہائی کی شرط یہ رکھی گئی ہے کہ وہ فرانس سے روانہ ہوں گے اور دوبارہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔
74 سالہ عبد اللہ کو 25 جولائی کو جنوبی فرانس کی جیل سے رہا کیا جائے گا۔ وہ 1980 کی دہائی میں پیرس میں دو غیر ملکی سفارت کاروں کے قتل اور ایک امریکی قونصل جنرل پر قاتلانہ حملے کے جرم میں 1987 میں عمر قید کی سزا پانے والے لبنانی مسلح انقلابی بریگیڈ کے سابق سربراہ ہیں۔
وہ 1984 سے قید ہیں اور فرانس کے طویل ترین سزا یافتہ قیدیوں میں شمار ہوتے ہیں، حالانکہ فرانس میں عمر قید کے اکثر قیدی 30 سال سے پہلے ہی رہا ہو جاتے ہیں۔
عبد اللہ کے بھائی رابرٹ عبد اللہ نے لبنان میں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم بہت خوش ہیں۔ مجھے کبھی امید نہیں تھی کہ فرانس کی عدلیہ یہ فیصلہ کرے گی یا وہ کبھی رہا ہو پائیں گے، خاص طور پر اتنے برسوں کی ناکام رہائی کی درخواستوں کے بعد۔
انہوں نے مزید کہا کہ فرانسیسی حکام نے بالآخر امریکی اور اسرائیلی دباؤ سے خود کو آزاد کیا.
عبد اللہ کے وکیل ژاں لوئی شالانسے نے اس فیصلے کو ’’عدالتی فتح اور سیاسی رسوائی‘‘ قرار دیا، یہ واضح کرتے ہوئے کہ عبد اللہ کو پہلے ہی رہا ہو جانا چاہیے تھا۔
رہائی میں مسلسل تاخیر اور سیاسی مداخلت
عبد اللہ کی رہائی کی متعدد بار سفارش کی گئی، لیکن امریکہ — جو اس کیس میں مدعی بھی ہے — نے ہر بار اس کی مخالفت کی۔ لبنانی حکومت مسلسل ان کی رہائی اور واپسی کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور عدالت کو باضابطہ تحریری یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ ان کی بیروت واپسی کا انتظام کرے گی۔
نومبر میں بھی ایک فرانسیسی عدالت نے انہیں مشروط طور پر رہا کرنے کا فیصلہ دیا تھا، تاہم سرکاری استغاثہ نے یہ کہتے ہوئے اپیل کی کہ عبد اللہ نے اپنے سیاسی خیالات ترک نہیں کیے۔ یہ اپیل منظور ہو گئی اور رہائی مؤخر ہو گئی۔
فروری میں حتمی فیصلہ متوقع تھا، مگر عدالت نے کہا کہ واضح نہیں کہ عبد اللہ نے متاثرین کو معاوضہ ادا کیا یا نہیں، جبکہ انہوں نے ہمیشہ معاوضے کی ادائیگی سے انکار کیا ہے۔
پچھلے ماہ عدالت نے رہائی کی تازہ درخواست کی بند کمرہ سماعت کی۔ اس دوران وکیل نے بتایا کہ 16,000 یورو عبد اللہ کے اکاؤنٹ میں رکھ دیے گئے ہیں، جو متاثرہ فریقین بشمول امریکہ کی دسترس میں ہیں۔
جارج عبد اللہ نے اپنے اقدامات پر کبھی ندامت ظاہر نہیں کی۔ وہ خود کو ایک ’’فائٹر‘‘ کہتے ہیں جو فلسطینیوں کے حقوق کے لیے لڑا، اور نہ کہ کوئی ’’مجرم‘‘۔
عدالت نے ان کے جیل میں رویے کو "بے عیب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے مستقبل میں دہشتگردی کا کوئی خطرہ نہیں۔ ان کی حمایت اب بھی کچھ فرانسیسی بائیں بازو کے اراکینِ پارلیمان اور نوبل انعام یافتہ مصنفہ آنی ایرنو جیسی شخصیات کرتے ہیں، تاہم عوامی سطح پر وہ تقریباً فراموش کیے جا چکے ہیں۔
رہائی پر ممکنہ اپیل
استغاثہ ابھی بھی فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت، کورٹ آف کاسیشن میں اپیل کر سکتا ہے، لیکن امکان ہے کہ اس اپیل پر اگلے ہفتے سے قبل کوئی فیصلہ نہیں ہوگا، اور عبد اللہ کی رہائی مؤخر نہیں کی جا سکے گی۔
اب عبد اللہ کو لبنان واپسی کے لیے 25 جولائی کو رہائی دی جائے گی — وہ وطن لوٹیں گے، مگر فرانس دوبارہ کبھی قدم نہیں رکھ سکیں گے۔

