دمشق (مشرق نامہ) – دمشق پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد، شامی صدر احمد الشراع نے قوم سے خطاب میں دروز اقلیت کے تحفظ اور ان کے حقوق کی پاسداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ سویدا میں سیکیورٹی کی ذمہ داری مقامی مذہبی اور قبائلی رہنماؤں کو سونپی جائے گی تاکہ جنوبی شام میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اپنے ٹیلی وژن خطاب میں صدر الشراع نے اس جھڑپ کا حوالہ دیا جس میں دروز عسکریت پسندوں، بدو قبائل اور حکومتی افواج کے مابین شدید لڑائی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر ہمارے دروز بھائیوں پر زیادتیوں میں ملوث پائے گئے، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، کیونکہ وہ ریاست کی امان میں ہیں۔
انہوں نے دروز اقلیت کو "قوم کے تانے بانے کا ایک بنیادی حصہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم اندرونی یا بیرونی کسی بھی فریق کی جانب سے انتشار پھیلانے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔
اسرائیلی بمباری اور عسکری انخلاء
بدھ کے روز اسرائیل نے دمشق میں صدارتی محل کے قریب اور فوجی ہیڈکوارٹر پر فضائی حملے کیے، اور شامی حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر جنوبی علاقوں سے افواج واپس نہ بلائی گئیں تو حملے تیز کر دیے جائیں گے۔
جمعرات کو صدر الشراع کے خطاب کے فوراً بعد، دروز رہنما شیخ یوسف جربوع نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شامی فوج سویدا سے نکل چکی ہے۔ رات کے وقت درجنوں فوجی گاڑیاں شہر سے روانہ ہوتی دیکھی گئیں۔ الجزیرہ کی نمائندہ زینہ خضر نے شہر میں "پُرتناؤ سکون” کی کیفیت کو رپورٹ کیا، تاہم کہا کہ یہ سکون کب تک قائم رہے گا، کہنا مشکل ہے۔
دوسری طرف ایک اور بااثر دروز عالم، شیخ حکمت الحاجری نے جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک جنگ جاری رکھیں گے جب تک "سویدا مکمل طور پر آزاد نہ ہو جائے”۔ ان کے مقام کا پتہ نہیں چل سکا، اور یہ واضح نہیں کہ ان سے وابستہ جنگجو لڑائی جاری رکھیں گے یا نہیں۔
"اسرائیلی ریاست عدم استحکام کی مرتکب”
صدر الشراع نے کہا کہ نئی شام کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب اپنی ریاست کے پیچھے متحد ہو جائیں، اس کے اصولوں سے وابستہ رہیں، اور ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو فوقیت دیں۔
دروز برادری کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو کسی بیرونی ہاتھ کے پنجے میں جانے سے بچانا چاہتے ہیں، جو اسرائیلی مداخلت کی واضح جانب اشارہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی ریاست سقوطِ سابقہ نظام کے بعد سے ہماری سالمیت کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے اور اختلافات کو ہوا دے رہی ہے۔ اب وہ ہماری مقدس سرزمین کو ایک نہ ختم ہونے والے انتشار کا میدان بنانا چاہتی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی حملوں میں دمشق میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے، اور یہ حملے "بڑے پیمانے پر جنگ” میں تبدیل ہو سکتے تھے اگر امریکا، ترکی اور بعض عرب ثالث مداخلت نہ کرتے، جنہوں نے "خطے کو ایک نامعلوم انجام سے بچایا۔”
امریکہ کا کردار اور خاموش تبدیلی
امریکہ، جس نے شامی حکومت کے ساتھ تعلقات کو نرم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے، اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیملی بروس نے اسے "نئے ہمسایوں کے درمیان غلط فہمی” قرار دیتے ہوئے شامی افواج سے جنوبی علاقے سے انخلاء کی اپیل کی۔
"عمل الفاظ سے زیادہ اہم ہیں”
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے دوحہ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر محمد المصرٰی نے کہا کہ صدر الشراع کا خطاب دروز اقلیت کو تسلی دینے والا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دروز شامی معاشرے کا لازمی جزو ہیں اور ریاست ان کا تحفظ کرے گی۔
لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اصل فیصلہ حکومت کے اقدامات پر ہوگا، کیونکہ اقلیتیں اب دیکھیں گی کہ وعدے پر عمل کتنا ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر الشراع نے اسرائیل کو یہ پیغام بھی دیا کہ شام جنگ سے نہیں ڈرتا، اور جو بھی شام کے ساتھ جنگ شروع کرے گا، وہ "پچھتائے گا”۔
المصرٰی نے اسے ایک "خطرناک موڑ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال اس بات پر منحصر ہوگی کہ امریکا اور صدر ٹرمپ اسرائیل کو کس حد تک قابو میں رکھتے ہیں۔
اسرائیل کا جنوبی شام میں دبدبہ
سویدا میں جھڑپوں کی شروعات دروز اور مقامی سنی بدو قبائل کے درمیان اغوا اور جوابی حملوں سے ہوئی۔ شامی سیکیورٹی فورسز کے مداخلت کے بعد جھڑپوں میں شدت آئی، اور مقامی ذرائع کے مطابق فوج کے کچھ عناصر نے زیادتیاں بھی کیں، جنہیں شامی صدارتی دفتر نے "غیر قانونی جرائم” تسلیم کیا۔
یہی کارروائیاں اسرائیل کو شام پر حملوں کا بہانہ فراہم کر رہی ہیں، خاص طور پر گولان کی پہاڑیوں میں جہاں اسرائیل اپنی عسکری موجودگی بڑھا رہا ہے۔
رواں سال اپریل اور مئی میں بھی سویدا میں دروز جنگجو اور حکومتی افواج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں درجنوں افراد مارے گئے۔ اس کے بعد مقامی قائدین نے معاہدوں پر دستخط کر کے دروز عسکریت پسندوں کو نئے شامی نظام میں شامل کرنے کی کوشش کی۔
جنگ کے دوران دروز نے اپنی ملیشیائیں تشکیل دی تھیں، اور سقوطِ اسد کے بعد سے وہ سویدا اور اس کے اطراف میں خاصی خودمختاری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اسرائیل اس خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اس سال شام پر کئی بار بمباری کر چکا ہے۔

