تل ابیب (مشرق نامہ) – اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی قیادت کو بدھ کے روز اُس وقت شدید دھچکا پہنچا جب ایک اور اہم اتحادی جماعت "شاس” نے فوجی بھرتی کے متنازع قانون پر احتجاجاً حکومت چھوڑنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد پارلیمان میں نیتن یاہو کی حکومت اقلیت میں آ سکتی ہے۔
شاس، جو کہ ایک بااثر الٹرا آرتھوڈوکس مذہبی جماعت ہے، نے کہا کہ وہ مذہبی طلبہ کو لازمی فوجی سروس سے مستقل استثنیٰ کی ضمانت نہ دیے جانے پر حکومت کا حصہ نہیں رہ سکتی۔
جماعت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا شاس کے نمائندے بوجھل دل کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ اب اس حکومت میں شامل نہیں رہ سکتے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ اس فیصلے سے نیتن یاہو کی پارلیمانی اکثریت متاثر ہوئی ہے یا نہیں، تاہم شاس کے علیحدہ ہونے کے بعد حکومتی اتحاد کی نشستیں 120 رکنی کنیسٹ میں صرف 50 رہ جائیں گی۔
اگرچہ شاس نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے، تاہم جماعت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کی کوشش نہیں کرے گی اور بعض قوانین پر اس کے ساتھ ووٹ دے سکتی ہے۔
یہ پیشرفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب ایک اور الٹرا آرتھوڈوکس جماعت "یونائیٹڈ توراتھ جوڈازم (یو ٹی جے)” بھی اسی معاملے پر حکومت سے الگ ہو چکی ہے۔ اسرائیل میں یہ مسئلہ شدید تنازع کا باعث بنا ہوا ہے، خاص طور پر جب کہ حماس کے ساتھ جنگ کو 21 ماہ سے زائد ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی معاشرے میں ایک عرصے سے مذہبی مدرسوں کے طلبہ کو لازمی فوجی سروس سے استثنیٰ حاصل رہا ہے، تاہم دیگر شہری طبقات کو اس بوجھ کے نیچے دبا دیکھ کر بڑی تعداد میں لوگ اس پالیسی کو غیر منصفانہ تصور کرتے ہیں۔
پارلیمنٹ 27 جولائی سے تین ماہ کی تعطیلات میں جا رہی ہے، جس سے نیتن یاہو کو ممکنہ طور پر کچھ مہلت مل سکتی ہے تاکہ وہ ان مذہبی جماعتوں کو دوبارہ اتحاد میں واپس لا سکیں۔
"بے رحم اور مجرمانہ سلوک”
الٹرا آرتھوڈوکس رہنما اس مؤقف پر قائم ہیں کہ مذہبی تعلیم میں مکمل وقت دینا ان کے عقیدے کا بنیادی حصہ ہے، اور اگر ان کے نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کیا گیا تو وہ مذہبی زندگی سے دور ہو جائیں گے۔
گزشتہ برس اسرائیلی سپریم کورٹ نے مدرسوں کے طلبہ کو دی گئی چھوٹ ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پارلیمنٹ نے نیا قانون بنانے کی کوشش کی، مگر شاس اور یو ٹی جے کے مطالبات پورے نہیں ہو سکے۔
شاس سے تعلق رکھنے والے مذہبی امور کے وزیر مائیکل مالکئیلی نے بدھ کو بتایا کہ شاس کے روحانی رہنماؤں کو اُس وقت سخت غصہ آیا جب کنیسٹ کی خارجہ و دفاعی کمیٹی کے چیئرمین یولی ایڈلسٹائن نے اپنی دی گئی یقین دہانیوں سے انحراف کیا۔
مالکئیلی نے "کونسل آف ٹوراہ سیجز” کا بیان پڑھتے ہوئے اسرائیلی فوج اور اٹارنی جنرل کی جانب سے مذہبی طلبہ پر جبری بھرتی کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ کاروائیاں کسی بھی طرح سے ان یشیوا طلبہ کے خلاف ظالمانہ اور مجرمانہ تعاقب سے کم نہیں۔

