اسلام آباد (مشرق نامہ) – نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰق ڈار آج کابل کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ ازبکستان-افغانستان-پاکستان (یو اے پی) ریلوے منصوبے سے متعلق مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، اسحٰق ڈار کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی کابل جائے گا، جس میں وزیر برائے ریلوے، افغانستان کے لیے وزیر اعظم کے معاون خصوصی، افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی اور سیکریٹری وزارتِ ریلوے شامل ہوں گے۔
یو اے پی ریلوے منصوبے کا بنیادی مقصد ازبکستان کو افغانستان کے راستے پاکستان سے ریلوے کے ذریعے منسلک کرنا ہے، تاکہ وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہو سکے۔ اس منصوبے سے نہ صرف علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ کو فروغ ملے گا بلکہ یہ خطے میں استحکام، ترقی اور خوشحالی کا بھی ذریعہ بنے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، وزیر خارجہ کا یہ دورہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اس منصوبے کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ کابل میں تینوں شراکت دار ممالک کے درمیان مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی پر فریم ورک معاہدے پر دستخط اس منصوبے کی عملی پیشرفت کی طرف ایک بڑا قدم تصور کیے جا رہے ہیں۔
دورے کے دوران اسحٰق ڈار افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے، جبکہ افغان قائم مقام وزیر اعظم سے بھی دو طرفہ ملاقات متوقع ہے، جس میں دونوں رہنما دو طرفہ تعاون، علاقائی روابط، تجارتی امکانات اور عالمی پیش رفت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
یو اے پی ریلوے منصوبہ انقلابی نوعیت کا علاقائی رابطہ منصوبہ سمجھا جا رہا ہے، جو نہ صرف تجارتی سطح پر نئی راہیں کھولے گا بلکہ افغانستان جیسے زمینی گزرگاہ کے حامل ملک کو خطے میں ایک پل کی حیثیت دے گا، جبکہ پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی مزید آسان ہو جائے گی۔

