ماسکو (مشرق نامہ) – روسی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یورپی یونین امریکہ کی پیروی میں جو اقدامات کر رہی ہے، ان کا حقیقی نقصان خود یورپی ممالک کو ہو گا، نہ کہ روس کو۔ روس کا کہنا ہے کہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے لیے مالی معاونت دراصل اس کے تباہ کن انجام میں شراکت داری ہے۔
رشیا ٹوڈے کے مطابق، روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے یوکرین کو امریکی اسلحے کی مسلسل فراہمی اور اس کی مالی ادائیگی کا عمل درحقیقت ایک ایسے شخص کی مانند ہے جو محض یہ دیکھنے کے لیے کسی اور کے کھانے کا بل ادا کرے کہ وہ اسے کھا کر مر جائے۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ روس کا ابتدائی مؤقف یہی رہا ہے کہ مغربی فوجی امداد کی کوئی مقدار ماسکو کو اپنے بنیادی جنگی مقاصد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ان کے بقول، یورپی یونین یوکرین کو محض ایک پراکسی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جنگ کو اس وقت تک طول دینا چاہتی ہے جب تک آخری یوکرینی شہری مارا نہ جائے، اور اس عمل کے ذریعے روس کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
قبل ازیں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی یورپی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپی یونین یوکرین کے معاملے پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دباؤ میں لا کر اپنی مرضی کا مؤقف اپنانے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا تھا کہ روس پر پابندیوں میں ممکنہ اضافہ — جس کی ٹرمپ نے دھمکی دی تھی — دراصل یورپی یونین کے خود اپنے رکن ممالک کے مفادات کو زیادہ نقصان پہنچائے گا، بنسبت روس کے۔

