ایبٹ آباد (مشرق نامہ) – ضلع ایبٹ آباد کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال میں دماغی رسولی (برین ٹیومر) کی پہلی جدید نوعیت کی کامیاب سرجری انجام دی گئی، جو طبی میدان میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔ یہ پیچیدہ آپریشن نوجوان گولڈ میڈلسٹ سرجن ڈاکٹر شاہ خالد نے جدید آلات اور تکنیکی مہارت کے ذریعے انجام دیا۔
دستیاب معلومات کے مطابق مریض 33 سالہ مانسہرہ کا رہائشی ہے، جو حال ہی میں دبئی سے وطن واپس آیا تھا۔ مختلف طبی ٹیسٹوں کے بعد اس کے دماغ میں ٹیومر کی تشخیص ہوئی، جس کے باعث فوری سرجری ناگزیر قرار پائی۔ تاہم صوبے میں نیورو نیویگیشن مشین کی عدم دستیابی ایک بڑی رکاوٹ تھی۔
ڈاکٹر شاہ خالد، جو کراچی کے آغا خان اسپتال سے فارغ التحصیل ہیں، نے اس چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے لاہور سے نیورو نیویگیشن مشین منگوائی۔ اس جدید مشین اور خصوصی اینستھیزیا تکنیک کی مدد سے انہوں نے تقریباً تین گھنٹے طویل آپریشن کے دوران 95 فیصد رسولی کو کامیابی سے نکال دیا۔ باقی ماندہ 5 فیصد رسولی کو ریڈی ایشن تھراپی کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہ خالد نے کہا کہ یہ ایک نہایت حساس اور خطرناک آپریشن تھا۔ ذرا سی بھی غلطی مستقل فالج کا باعث بن سکتی تھی۔ مریض کے جسم کو ہوش میں رکھتے ہوئے صرف دماغ کو بے حس کرنا ایک نہایت نازک عمل تھا، جس کے لیے مجھے خصوصی تربیت حاصل ہے۔ الحمدللہ سرجری کامیاب رہی اور مریض اب صحت یاب ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر شاہ خالد نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایبٹ آباد کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایک مکمل نیورو یونٹ قائم کیا جا رہا ہے، جہاں دماغی اور اعصابی بیماریوں کا جامع علاج ممکن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ میں کراچی کے آغا خان اسپتال سے اس خطے کی خدمت کے لیے آیا ہوں اور اسی مشن پر کاربند رہوں گا۔
یہ سرجری نہ صرف ایبٹ آباد بلکہ پورے خیبرپختونخوا کے لیے ایک سنگِ میل ہے، جو اس امر کی غماز ہے کہ اگر سہولیات اور عزم موجود ہو تو ملک میں بھی عالمی معیار کی طبی خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

