اسلام آباد (مشرق نامہ) – برطانیہ نے پانچ سال بعد پاکستانی ایئر لائنز پر عائد پابندی اٹھا لی ہے، جس سے انہیں دوبارہ برطانیہ کیلئے پروازیں شروع کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی نجکاری کے عمل کو تیز کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ یہ پابندی 2020 میں اس وقت عائد کی گئی تھی جب پی آئی اے کے ایک مسافر طیارے کے حادثے میں 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور حکومت نے ملکی پائلٹ لائسنسوں کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا تھا۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے فضائی تحفظ کے معیارات میں بہتری کے بعد یہ فیصلہ ممکن ہوا۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ یورپی یونین کی جانب سے حالیہ مہینوں میں کیے گئے اسی نوعیت کے اقدامات کے بعد سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں برطانیہ اور پاکستان کے فضائی ماہرین کی مشترکہ کوششوں کی شکر گزار ہوں، جنہوں نے بین الاقوامی سیفٹی اسٹینڈرڈز پر پورا اترنے میں مدد دی۔ اگرچہ پروازوں کی بحالی میں وقت لگے گا، لیکن جب بھی لاجسٹکس مکمل ہوں گی، میں پاکستان کے کسی کیریئر سے سفر کرنے کی منتظر ہوں۔
پابندی کے خاتمے کو برطانیہ میں مقیم 16 لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد باشندوں اور پاکستان میں رہائش پذیر ہزاروں برطانوی شہریوں کے لیے ایک بڑی سہولت اور موقع قرار دیا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان 4.7 ارب پاؤنڈز کی دو طرفہ تجارت میں اضافے کے لیے بھی ممکنہ محرک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فضائی راستے کھلنے سے نہ صرف عوامی رابطے مضبوط ہوں گے بلکہ اقتصادی تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔
اگرچہ اس وقت کئی نجی پاکستانی ایئرلائنز اندرونِ ملک اور خلیجی ریاستوں کے لیے پروازیں چلاتی ہیں، تاہم برطانیہ اور یورپی یونین کے لیے طویل فاصلے کی پروازوں میں پی آئی اے کو ہمیشہ نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔
پی آئی اے نے پابندی کے باعث سالانہ 40 ارب روپے (تقریباً 144 ملین ڈالر) کے نقصان کا تخمینہ لگایا تھا۔ لندن، مانچسٹر اور برمنگھم کی پروازیں ہمیشہ کمپنی کے لیے منافع بخش رہی ہیں، اور پی آئی اے کے پاس لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر قیمتی لینڈنگ سلاٹس بھی موجود ہیں، جو اب دوبارہ فعال کیے جا سکتے ہیں۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق، برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی کی تیاری "انتہائی کم وقت” میں مکمل کی جا رہی ہے اور مجوزہ شیڈول حکام کو جمع کروا دیا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی طور پر اسلام آباد سے مانچسٹر کے درمیان ہفتہ وار تین پروازوں کا آغاز متوقع ہے، جس کا شیڈول منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔
رواں ماہ کے آغاز میں نجکاری کمیشن نے چار گروپوں کو پی آئی اے کے 51 سے 100 فیصد حصص کی خریداری کے لیے بولی کی اجازت دی ہے، جن کی حتمی بولیاں رواں سال کے آخر تک متوقع ہیں۔
حکومت کو توقع ہے کہ حالیہ اصلاحات — جن کے نتیجے میں پی آئی اے نے 21 سال بعد پہلا آپریٹنگ منافع حاصل کیا — خریداروں کی توجہ حاصل کرنے میں مددگار ہوں گی۔ یہ سب کچھ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی معاونت سے جاری وسیع تر نجکاری منصوبے کا حصہ ہے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تمام پروازوں کی بحالی سے نجکاری سے قبل پی آئی اے کی مالیت میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیویارک کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
"پاکستان برطانیہ کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کے لیے آپریٹنگ لائسنس کے لیے درخواست دے گا،” انہوں نے کہا۔
خواجہ آصف نے اس وقت کے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جسے یورپی یونین اور برطانیہ میں پی آئی اے پر پابندی کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غلام سرور کے غیر ذمہ دارانہ بیان نے پی آئی اے اور پاکستان کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے بتایا کہ مختلف سرمایہ کار گروپ پی آئی اے کی نجکاری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے برطانوی ایئر سیفٹی بورڈ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک "مثبت پیش رفت” ہے جو پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنانے اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔
وزیراعظم نے وزیر دفاع کو پابندی کے خاتمے پر مبارکباد دی اور وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ ایک اجلاس میں وزیر دفاع، ان کی ٹیم اور ایوی ایشن ڈویژن کی کوششوں کو سراہا۔
"برطانیہ کے لیے پاکستانی پروازوں کی بحالی ملک کے لیے ایک انتہائی اہم کامیابی ہے،” وزیر اعظم نے کہا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت برطانیہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے لیے سفر کو آسان بنائے گی اور دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کو فروغ دے گی۔

