جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان کا ایرانی سفیر امیری کا دفاع: ’قابلِ احترام، باقاعدہ سفارتی نمائندہ‘...

پاکستان کا ایرانی سفیر امیری کا دفاع: ’قابلِ احترام، باقاعدہ سفارتی نمائندہ‘ قرار
پ

اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاکستان نے ایران کے سفیر سید امیری مقدم کا دفاع کرتے ہوئے انہیں ’’قابلِ احترام اور باقاعدہ سفارتی نمائندہ‘‘ قرار دیا ہے، جنہیں امریکہ نے ایف بی آئی کی ’موسٹ وانٹڈ‘ فہرست میں شامل کیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے امیری مقدم کو 2007 میں سابق ایف بی آئی ایجنٹ رابرٹ لیونسن کی گمشدگی میں مبینہ طور پر ملوث قرار دے کر عالمی سطح پر مطلوب قرار دینے کے بعد اسلام آباد نے ایرانی سفیر کے حق میں موقف اختیار کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان شفقات علی خان نے بدھ کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ پاکستان کے لیے ایرانی سفیر ایک قابلِ احترام شخصیت ہیں جو ایک قریبی ہمسایہ ملک کے نمائندے کے طور پر باقاعدہ طور پر تسلیم شدہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سفیر امیری کا پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں کردار اہم رہا ہے، اور پاکستان تہران کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لیے پُرعزم ہے۔

ترجمان نے کہا کہ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، ایرانی سفیر کو دو طرفہ تعلقات کے فروغ میں ان کے کردار کے باعث بھرپور عزت دی جاتی ہے۔ وہ ایک دوستانہ ہمسایہ ملک کے سفیر ہونے کے ناتے تمام تر سفارتی مراعات، استثنیٰ اور احترام کے حق دار ہیں۔

واضح رہے کہ ایف بی آئی نے حالیہ دنوں امیری مقدم کو اپنی موسٹ وانٹڈ فہرست میں شامل کیا ہے، اور ان پر 2007 میں کیش آئی لینڈ، ایران کے سفر کے بعد لاپتا ہونے والے ایف بی آئی کے سابق اہلکار رابرٹ لیونسن کے اغوا، حراست اور ممکنہ موت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

رابرٹ لیونسن کو اس کے بعد سے کبھی عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔ ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے اندازوں کے مطابق وہ ایرانی تحویل میں فوت ہو چکے ہیں۔

ایف بی آئی کے مطابق امیری مقدم ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس و سیکیورٹی کے اہلکار ہیں اور امریکی محکمہ خزانہ نے رواں سال مارچ میں انہیں اسی واقعے کے سلسلے میں بلیک لسٹ کیا تھا۔

ایف بی آئی نے لیونسن کی بازیابی سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر 50 لاکھ ڈالر جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے ’ریوارڈز فار جسٹس‘ پروگرام نے اضافی 2 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔

یہ اقدام ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ 12 روزہ جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام پر بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اگست کے آخر تک غیر رسمی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ اگر اس مدت میں کوئی نیا معاہدہ طے نہیں پایا تو وہ "اسنیپ بیک” میکانزم کے تحت اقوامِ متحدہ کی وہ تمام پابندیاں خودکار طریقے سے بحال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو 2015 کے معاہدے کے تحت معطل کی گئی تھیں۔

ادھر امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جم رِش نے اس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آئی ایران کو باب لیونسن کے اغوا کا ذمہ دار ٹھہرانے میں پیش پیش ہے۔ ہم باب اور ان کے خاندان کو کبھی نہیں بھولیں گے اور مجرموں کو ضرور کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔

دریں اثنا،دوسری جانب، ایک اور رپورٹ کے مطابق ایرانی سفیر امیری مقدم پاکستان میں اپنی سفارتی ذمہ داریوں کے دو سال آج (جمعرات) مکمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے 17 جولائی 2023 کو اسلام آباد میں اپنی سفارت کاری کا آغاز کیا تھا۔ واضح رہے کہ ایرانی سفیروں کی تقرری عام طور پر پانچ سال کے لیے ہوتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین