پی آئی اے کو 200 ارب روپے سے زائد کا نقصان، ساکھ کو دھچکا، درجنوں پائلٹس بےروزگار – مگر کوئی ذمہ دار قرار نہ پایا
اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو ایک وفاقی وزیر کے غیرذمہ دارانہ بیان کے نتیجے میں 200 ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا، تاہم آج تک کسی کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔
وزارتِ دفاع کے ذرائع کے مطابق 2020 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے ایک وزیر کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ پی آئی اے کے کئی پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں۔ اس بیان کے بعد برطانیہ، یورپ اور امریکہ میں پی آئی اے کی پروازوں پر فوری پابندی عائد کر دی گئی، جس کے نتیجے میں قومی ایئرلائن کو بھاری مالی، پیشہ ورانہ اور عالمی ساکھ کا نقصان ہوا۔
ذرائع نے بتایا کہ صرف آمدن میں کمی کی مد میں پی آئی اے کو 200 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، جبکہ منافع کی مد میں یہ نقصان 12.7 ارب روپے کے لگ بھگ رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ، بیرونِ ملک کام کرنے والے درجنوں پاکستانی پائلٹس یا تو نوکریوں سے نکال دیے گئے یا غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیے گئے۔ بین الاقوامی فضائی خطرات کے حوالے سے پاکستان کی درجہ بندی متاثر ہوئی، جس سے انشورنس پریمیم اور آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ، پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی ساکھ بھی عالمی سطح پر بری طرح متاثر ہوئی۔
ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ عالمی سطح پر ایک حساس قومی معاملے سے نمٹنے کی ایک کلاسیکی بدانتظامی کی مثال تھی۔
تاہم اتنے وسیع پیمانے کے نقصان کے باوجود آج تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ حکومت نے تحقیقات کا وعدہ کیا تھا مگر نہ تو وہ رپورٹ منظرعام پر آئی اور نہ ہی کسی کو ان الزامات کے حوالے سے جواب دہ ٹھہرایا گیا، جو کئی حلقوں کی نظر میں بےبنیاد اور غیر مصدقہ تھے۔
اب، چار سالہ پابندی کے بعد یورپی یونین کے بعد برطانیہ نے بھی پی آئی اے پر عائد سفری پابندی اٹھا لی ہے، جسے قومی ایئرلائن کی عالمی ساکھ کی بحالی کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت سے نہ صرف پی آئی اے کو یورپی اور برطانوی منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل ہوئی ہے بلکہ حکومت کی جاری نجکاری کے عمل میں ایئرلائن کی قدر اور سرمایہ کاروں میں اس کی کشش میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
تاہم جیسے جیسے پی آئی اے اپنی سب سے منافع بخش بین الاقوامی پروازوں کی بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے، 2020 میں اٹھنے والے نام نہاد ’’جعلی لائسنس‘‘ اسکینڈل سے جڑے مالی اور ساکھ کے بھاری نقصانات آج بھی سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں—سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس تباہی کا ذمہ دار کون تھا؟ اور اسے آج تک سزا کیوں نہیں ملی؟
یاد رہے، یہ بحران اُس وقت شروع ہوا جب جون 2020 میں اُس وقت کے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ ایک بڑی تعداد میں پاکستانی پائلٹس ’’جعلی‘‘ یا مشکوک لائسنس کے ساتھ پروازیں چلا رہے ہیں۔ یہ بیان نہ کسی مکمل تحقیق کی بنیاد پر تھا، نہ کوئی سیاق و سباق پیش کیا گیا، اور نہ ہی کسی ٹھوس ثبوت کے ساتھ یہ الزام لگایا گیا۔ عالمی فضائی ریگولیٹرز نے فوری طور پر پی آئی اے پر اعتماد کھو دیا اور حفاظتی خدشات کے پیش نظر اس کی پروازیں معطل کر دیں۔

