از طارق سیریل امر، RT
غزہ میں نسل کشی خاص ہے، اور وہ بھی دو حوالے سے۔
جیسا کہ اکثر بتایا گیا ہے، یہ تاریخ کی پہلی ایسی نسل کشی ہے جو بنیادی طور پر لائیو اسٹریم کی صورت میں ہو رہی ہے۔ کسی دوسری نسل کشی میں اس قدر براہِ راست دنیا کی موجودگی نہیں رہی۔ دوسرا پہلو یہ کہ غزہ کی نسل کشی اثر انداز ہو کر، ایک بے مثال انداز میں، پورے اخلاقی و قانونی نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے – یا کم از کم ان پرماضی میں قائم اپنے دعووں کو تباہ کر رہی ہے۔
یہ دونوں انوکھی صورتیں ایک دوسرے سے مربوط ہیں: پوری دنیا اس لیے غزہ کی نسل کشی کو تقریباً تین برس سے دیکھ رہی ہے، اُس وقت جب نہایت بنیادی اصولوں کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا۔ مثال کے طور پر، تقریباً کسی بھی ریاست نے — یمن کے سوا — 1948 کے اقوام متحدہ کے جینوسائیڈ کنونشن کے تحت “روکنے اور سزا دینے” کی اپنی واضح قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش نہیں کی۔ نہ مشرقِ وسطیٰ میں، نہ اس کے باہر — کوئی ایسی طاقت نہ آئی جو ایسا کر سکتی، نہ تنہا، نہ مشترکہ طور پر — نے فلسطینیوں کو بچانے کی حقیقت میں مؤثر طاقت سے کوشش کی۔
تاہم وہ دنیا، جو تعداد میں چھوٹی مگر اثر و رسوخ کے اعتبار سے حد سے زیادہ طاقتور ہے اور جو خود کو "مغرب” کہتی ہے، محض خاموشی یا عمل نہ کرنے سے آگے جا چکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ — چاہے مغرب ایک ایسا تمدن رہا ہو جس کی تشکیل میں کبھی مسیحیت کا کردار رہا ہو یا نہیں — ایک طویل عرصے سے اس کی اصل روح ریاکاری (hypocrisy) ہے۔ اور غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران، مغرب کی یہ مجبوری کہ وہ اپنی انتہائی سفّاک کارروائیوں کو بھی "اقدار” کے پردے میں نیکی کے طور پر پیش کرے، اخلاقی اور عقلی بگاڑ کی ایسی انتہا پر پہنچ چکی ہے جو مکمل طور پر مطلق ہے: چونکہ مغرب نے نہ صرف فلسطینی مظلومین کو ترک کیا بلکہ خود "اسرائیل” کے ساتھ مل کر نسل کشی کا شریکِ کار بن گیا ہے، اس کے سیاسی، ثقافتی، صحافتی، عدالتی اور پولیس سے وابستہ اشرافیہ نے ایک مستقل، ضدی مہم کے ذریعے ہماری اخلاقی حس کو، مخصوص قانونی اصولوں سے لے کر ان فطری حدوں تک جو ہمیشہ ناقابل عبور سمجھی جاتی تھیں، یکسر مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔
مثال کے طور پر، ایک ایسی مبیّنہ ’جنگ‘، جس میں پچاس ہزار سے زائد بچوں کو یا تو قتل کر دیا گیا یا شدید زخمی — اور ان میں سے کئی زندگی بھر کے لیے معذور — کر دیا گیا (جیسا کہ مئی 2025 تک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں)؟ ایسی ’جنگ‘ جس کے بارے میں معتبر گواہیوں کا تسلسل جاری ہے کہ ان بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا، بشمول ڈرون آپریٹرز اور نشانہ بازوں کے؟ ایسی ’جنگ‘ جس میں قحط، طبی محرومی اور بیماریوں کی دانستہ پرورش کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا؟ مغرب ہمیں تلقین کرتا ہے کہ اسے ’خود دفاع‘ کہا جائے۔
درحقیقت ہم سے — نرمی سے نہیں، بلکہ پوری شدت سے — یہ یقین رکھنے کو کہا جا رہا ہے کہ بچوں کے اس اجتماعی قتلِ عام پر مبنی یہ ’خود دفاع‘ قابلِ فخر ہے، حتیٰ کہ بطورِ نیابتی بھی۔ مثال کے طور پر، برلن کے میئر کائی ویگنر — جو "اسرائیلی” نسل کشی کے خلاف کسی بھی علامتی مزاحمت کو کچلنے کے لیے بدنام ہیں — نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ سٹی ہال پر "اسرائیلی” پرچم لہراتا رہے گا۔
اسی اخلاقی پستی کے تحت، مغربی اسٹیبلشمنٹز سزا دیتے ہیں — نہ کہ نسل کشی کے مجرموں اور ان کے شریک کاروں کو، جو "اسرائیل” میں ہوں یا مغرب میں، بلکہ ان لوگوں کو جو فلسطینی مظلومین سے اظہارِ یکجہتی میں مزاحمت کرتے ہیں۔ مظاہرین، سچے صحافی، حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کے ایک خصوصی نمائندہ تک کو مجرم بلکہ دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے — اس جرم پر کہ وہ نسل کشی کے خلاف کھڑے ہوئے، جیسا کہ — یوں لگتا ہے — کل ہی کی بات ہے جب یہ ہم سب کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری قرار پاتی تھی۔ لیکن اب ’کبھی دوبارہ نہیں‘ کا نعرہ بدل کر ’یقینی طور پر دوبارہ، اور جب تک قاتل چاہیں، کیونکہ وہ “اسرائیلی” ہیں اور ہمارے دوست‘ بن چکا ہے۔
یہ وہ تناظر ہے — جس میں اخلاق، قانون اور معنیٰ کی ایسی مکمل الٹ پلٹ واقع ہو چکی ہے کہ اب "آرویلین” جیسا لفظ، جو اکثر بے جا استعمال ہوتا ہے، بالکل برمحل لگتا ہے — جس میں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ انسان دوستی (humanitarianism) کے تصور کے ساتھ اب کیا ہو رہا ہے۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کی بنیادی تعریف کے مطابق، ایک "انسان دوست” (humanitarian) وہ شخص ہے جو دوسروں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کام کرتا ہے — مثلاً عالمی بھوک مٹانے کی کوشش۔ چونکہ جدید انسان دوستی کی دو صدیوں پر محیط تاریخ موجود ہے، لہٰذا مؤرخین، جیسے مائیکل بارنیٹ نے اپنی کتاب Empire of Humanity میں اس کا زیادہ پیچیدہ تجزیہ پیش کیا ہے۔ ناقدین طویل عرصے سے انسان دوستی کی حدود اور خامیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ فرانسیسی ماہرِ عمرانیات ژاں بودریار کے نزدیک، یہ ایک ایسی چیز ہے جو اُس وقت باقی رہ جاتی ہے جب زیادہ پُرامید انسانی نظریات زوال کا شکار ہو جائیں: ایک طرح کا تاریک ہنگامی ردِ عمل، اس بات کی علامت کہ دنیا ایک بار پھر بدتر ہو چکی ہے۔
بالخصوص سرد جنگ کے بعد کے اُن عشروں میں، جب امریکی غرور اپنے عروج پر تھا — جسے غلط طور پر ’یک قطبی لمحہ‘ (unipolar moment) کہا گیا — انسان دوستی اکثر مغربی سامراجیت کے ساتھ جا ملی۔ مثلاً 2003 میں عراق پر مسلط کی جانے والی جارحانہ جنگ کے دوران، انسان دوست تنظیمیں حملہ آوروں، قابضین اور جارحوں کی خادم بن گئیں۔
تاہم، آپ انسان دوستی کا جو بھی تصور رکھیں، کچھ ایسے افعال ہیں جنہیں صرف مکمل جنونی اور لامحدود شیطانی ذہن ہی اس تصور کے ساتھ جوڑ سکتا ہے — مثلاً بھوکے شہریوں کا قتلِ عام اور حراستی کیمپ۔ لیکن غزہ میں، یہی افعال انسان دوستی کے لیبل تلے پیش کیے جا رہے ہیں۔ "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن” نامی ایک مشکوک امریکی-"اسرائیلی” منصوبے نے ایک ایسی اسکیم متعارف کروائی ہے جس میں خوراک کی معمولی مقدار کو درحقیقت مہلک جال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے: فلسطینیوں کو، جنہیں "اسرائیل” نے جان بوجھ کر محصور کیا ہے، چار مخصوص قتل گاہوں کی طرف لالچ دیا جاتا ہے جو بظاہر امدادی مراکز کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔
گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران، "اسرائیلی” افواج اور مغربی کرائے کے جنگجوؤں نے ان شیطانی امدادی مراکز پر یا ان کے آس پاس کم از کم 789 افراد کو قتل کیا — اور ہزاروں کو زخمی کیا۔ ظاہر ہے کہ اس درجے پر نہتے افراد کا قتل "حادثاتی نقصان” نہیں بلکہ مکمل طور پر دانستہ ہے۔ اب تک اس منصوبے کی مجرمانہ نیت مختلف ذرائع، بشمول خود "اسرائیلی” ذرائع، سے ثابت ہو چکی ہے۔ تعجب کی بات نہیں کہ 170 حقیقی انسان دوست اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس جعلی امداد اور حقیقی اجتماعی قتل کی اس اسکیم کے خلاف احتجاجی دستخط کیے ہیں۔
اور پھر وہ "کیمپ” منصوبہ ہے: "اسرائیلی” قیادت پہلے ہی غزہ کے باقی ماندہ زندہ باشندوں کو — جو کہ اس خطے میں نسل کشی سے پہلے ہی دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں شمار ہوتا تھا — غزہ کے صرف 20 فیصد باقی بچے علاقے میں دھکیل چکی ہے۔
لیکن شاید ان کے لیے یہ بھی کافی بدی نہیں: اب، غزہ کے مسئلے کا ’حتمی حل‘ تلاش کرنے کی کوشش میں، انہوں نے امریکا میں اپنے اتحادیوں کو ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے — زندہ بچ جانے والوں کو ایک اور بھی چھوٹے علاقے میں جمع کرنا۔ اس امر واقعہ میں قائم کیے جانے والے حراستی کیمپ کو وہ ’انسانی شہر‘ (humanitarian city) کے طور پر مشتہر کر رہے ہیں۔ اس کیمپ سے فلسطینیوں کے لیے صرف دو ہی راستے ہوں گے: موت یا غزہ سے جلاوطنی۔ "اسرائیلی” وزیرِ جنگ، اسرائیل کاٹز، ہمیں یہ سب کچھ ’رضاکارانہ‘ کے طور پر فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ اب "اسرائیلی” نسل کش اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ صرف نازی جرائم کی سطح پر نہیں بلکہ خود جرمن زبان کے اخلاقی استحصال کے ساتھ بھی مقابلہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔
اس منصوبے کا مقام؟ رفح کے کھنڈرات۔ شاید آپ کو رفح یاد ہو — غزہ کے جنوبی علاقے میں واقع وہ گنجان آباد شہر، جس کے بارے میں "اسرائیل” کے مغربی اتحادیوں نے ایک وقت میں یہ تاثر دیا تھا کہ وہ اسے کسی حد تک تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے، وہ تمام تر ’تنبیہات‘ کسی قیمت کی حامل نہیں تھیں۔ رفح کو مسمار کر دیا گیا، اور اب یہی علاقہ اُس حتمی حراستی کیمپ کے لیے مخصوص کیا جا رہا ہے جو سب کچھ ختم کر دے گا۔
یہ منصوبہ اتنا مکروہ ہے — لیکن درحقیقت یہی "اسرائیل” کا معمول ہے — کہ اس کے ناقدین بھی اس کی اخلاقی پستی کا احاطہ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ریلیف ادارے اونروا (UNRWA) کے سربراہ، فلیپ لازارینی — اس امدادی ادارے کے جسے "اسرائیل” نے جان بوجھ کر بھوک کے ہتھیار کے طور پر بند کر دیا اور جس کے لگ بھگ 400 مقامی اہلکار شہید کیے جا چکے ہیں — نے ایکس (X) پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’انسانی شہر‘ ایک دوسرے "نکبہ” کے مترادف ہوگا اور "فلسطینیوں کے لیے مصر کی سرحد پر بڑے پیمانے پر حراستی کیمپ قائم کر دے گا۔”
نکبہ وہ صہیونی نسلی تطہیر تھی جو 1948 میں تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار فلسطینیوں کے قتلِ عام، جبری انخلا اور دیہی نسل کشی پر مشتمل تھی۔ لیکن اگر لازارینی یہ سمجھتے ہیں کہ پہلا نکبہ کبھی ختم ہوا تھا، تو وہ غلط ہیں: "اسرائیلی” تشدد کے ہاتھوں فلسطینی مظلومین کے لیے وہ نکبہ درحقیقت مسلسل جاری ایک عمل تھا — جس میں زمینوں پر قبضہ، نسلی امتیاز اور اکثر قتل شامل رہا۔ اور اب یہ عمل مکمل نسل کشی کی شکل اختیار کر چکا ہے، جیسا کہ متعدد بین الاقوامی ماہرین تسلیم کرتے ہیں، جن میں آکسفورڈ کے ممتاز مؤرخ اوی شلائم بھی شامل ہیں۔ یہ کوئی دوسرا نکبہ نہیں، بلکہ پہلا نکبہ مکمل کرنے کی "اسرائیلی” کوشش ہے۔
لازارینی کا یہ کہنا کہ ’انسانی شہر‘ کا منصوبہ مصر کی سرحد پر حراستی کیمپ قائم کرے گا، ظاہر ہے کہ اپنی جگہ درست ہے — جتنا وہ کہہ سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورا غزہ ایک عرصے سے وہ مقام رہا ہے جسے (2003 تک بھی) "اسرائیلی” ماہرِ عمرانیات باروخ کمرلنگ نے "تاریخ کا سب سے بڑا حراستی کیمپ” قرار دیا تھا۔ یہ نکتہ محض لغوی موشگافی نہیں۔ لازارینی کا یہ اعتراض — اگرچہ قابلِ تحسین ہے — اس بات کو مکمل طور پر نہیں سمجھتا کہ "اسرائیل” اس وقت فلسطینیوں کے لیے ایک نئی جہنم تخلیق کر رہا ہے — اُس پرانی جہنم کے اندر، جو دہائیوں سے قائم ہے۔
لیکن صرف "اسرائیل” ہی نہیں۔ مغرب، ہمیشہ کی طرح، اس میں گہرائی سے ملوث ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ جنگِ عظیم کے درمیانی عرصے میں صہیونی تحریک نے فلسطینیوں کے خلاف حراستی کیمپ کے استعمال کا تصور برطانوی نوآبادیاتی حکام سے سیکھا — جیسا کہ دیگر ظالمانہ حربے بھی — آج بھی مغربی ادارے اور شخصیات براہ راست "اسرائیلی” منصوبہ بندی میں شریک ہیں۔ ٹونی بلیئر کا فاؤنڈیشن — جو دراصل ایک تجارتی مشاورتی و اثرو رسوخ کی کمپنی ہے، جو ہمیشہ اندھیرے کے پچھلے رخ پر کام کرتی ہے — اور دنیا کی طاقتور کمپنی Boston Consulting Group، دونوں کو "اسرائیلی” نسل کش منصوبہ بندی میں شامل پایا گیا ہے۔ اور ان سب کے پیچھے کھڑی ہے خود امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کھلی خواہش — جو کافی عرصے سے واضح کرتے آئے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ غزہ کو ایک وسیع، چمکدار ٹرمپستان میں دوبارہ تعمیر کیا جائے — مگر بغیر فلسطینیوں کے۔
غزہ میں نسل کشی کا آغاز ہی سے ایک ایسا سنگدل جرم رہا ہے، جس کے ساتھ ساتھ ایک مستقل کوشش بھی جاری ہے — یہ طے کرنے کی کہ درست کیا ہے اور غلط کیا، تاکہ اس جرم کو ضروری، قابلِ جواز بلکہ منافع بخش موقع کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ اور مغربی اشرافیہ — چند قلیل استثناؤں کے سوا — نے "اسرائیل” کے ساتھ مل کر اس مکمل اخلاقی و عقلی انحراف میں اسی شدت سے شرکت کی ہے، جس شدت سے وہ قتل عام میں شریک ہے۔ اگر "اسرائیل” اور مغرب دونوں کو اب بھی نہ روکا گیا، تو وہ غزہ کی نسل کشی کو ایک نئے عالمی سانچے کی بنیاد میں ڈھال دیں گے — ایک ایسی دنیا کی تخلیق میں، جہاں نازیوں کے تمام وہ جرائم، جنہیں ہم نے ایک عرصے تک حقارت سے یاد رکھا، روزمرّہ معمول بن جائیں گے۔

