فلوریڈا (مشرق نامہ) — مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہونے والے امریکی شہری سیف اللہ مسلط کے اہلِ خانہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتل آبادکاروں کو گرفتار کر کے امریکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔
ٹیمپا، فلوریڈا سے تعلق رکھنے والا 20 سالہ نوجوان سیف اللہ گزشتہ ہفتے اپنے رشتہ داروں سے ملنے رام اللہ کے قریب آیا تھا، جہاں اسے اپنے خاندان کی زمین کو حملہ آور آبادکاروں سے بچاتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔
پیر کے روز فلوریڈا میں ایک جذباتی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس کے چچا، ہاشم مسلط نے سیف کو ایک محبت کرنے والا، باادب اور شریف نوجوان قرار دیا۔ انہوں نے امریکی حکومت پر تنقید کی کہ وہ اپنے ہی شہری کے قتل پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی کو تو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، سیف اللہ کو ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور اسی حملے میں ایک اور 23 سالہ فلسطینی نوجوان رزق حسین الشلبی کو گولی مار کر زخمی حالت میں چھوڑ دیا گیا، جو بعد میں دم توڑ گیا۔
ہاشم مسلط کا کہنا تھا کہ آبادکاروں نے زخمیوں تک ایمبولینسوں کو پہنچنے سے روکا، اور سیف کے بھائی نے اسے اپنی آنکھوں کے سامنے آخری سانس لیتے دیکھا۔
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) کی فلوریڈا چیپٹر کی نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہبہ رحیم نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور کہا کہ سیف کے اہلِ خانہ چاہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ، محکمہ انصاف، اور محکمہ خارجہ قاتلوں کے خلاف کارروائی کریں۔
انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کے اُس بیان کی بھی مذمت کی، جس میں کہا گیا تھا کہ سیف کے اہلِ خانہ کی پرائیویسی کے احترام میں فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔
ہبہ رحیم نے کہا کہ نہ ہم خاموشی مانگ رہے ہیں، نہ اُن کا خاندان۔ ہم انصاف مانگ رہے ہیں۔
اگر سیف اللہ کسی اور ملک میں یا کسی اور کے ہاتھوں قتل ہوتا، تو اب تک تحقیقات بھی ہو چکی ہوتیں، گرفتاریاں بھی ہو چکی ہوتیں، اور واشنگٹن میں غصے کی لہر دوڑ چکی ہوتی۔
تو اب ہماری حکومت کہاں ہے؟ انصاف کہاں ہے؟
اسی روز پیر کو، امریکی سفیر برائے اسرائیل، مائیک ہکابی نے "ایکس” (سابق ٹوئٹر) پر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پہلی بار سیف اللہ کی موت کا باضابطہ اعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ میں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیف مسلط، ایک امریکی شہری جو سنجل میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے آیا تھا اور بے دردی سے قتل کر دیا گیا، کے قتل کی مکمل تحقیقات کرے۔
اس مجرمانہ اور دہشت گردانہ فعل پر مکمل احتساب ہونا چاہیے۔ سیف کی عمر صرف 20 سال تھی۔
ادھر اسرائیلی فوج (IOF) نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب فلسطینیوں نے اسرائیلیوں پر پتھراؤ کیا اور یوں "ایک پُرتشدد تصادم” شروع ہو گیا۔ تاہم ہبہ رحیم نے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہی جھوٹ ہیں جو ہر بار دہرائے جاتے ہیں جب درندگی کے مرتکب افراد کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سیف اللہ کا قتل کوئی الگ سانحہ نہیں، بلکہ ان امریکی شہریوں کے خلاف ایک مسلسل جاری مظالم کی کڑی ہے، جنہیں اسرائیلی فورسز اور آبادکار کھلے عام تشدد اور قتل کا نشانہ بناتے ہیں۔
سیف اللہ کا قتل مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں کا حصہ ہے۔
اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج اور آبادکار 1000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور 9000 سے زائد کو زخمی کر چکے ہیں۔

