واشنگٹن (مشرق نامہ)– امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل یوکرین بھیجے جا رہے ہیں، جنہیں جرمنی فراہم کرے گا اور بعد ازاں اپنے ذخائر کو خود بھرے گا۔
بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ میزائل پہلے ہی روانہ کیے جا چکے ہیں۔ یہ جرمنی سے آ رہے ہیں، جرمنی ہی اپنے ذخیرے کو بحال کرے گا، اور ہر صورت میں امریکہ کو مکمل ادائیگی کی جائے گی۔
14 جولائی کو صدر ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ پیٹریاٹ میزائل یوکرین بھیجے گا، تاہم یورپی یونین اس ترسیل کی مالی ذمہ داری اٹھائے گی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ پہلے ہی یوکرین کے لیے اضافی ہتھیار بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کر چکے ہیں، جس کا مقصد روس کے ساتھ جاری تنازعے میں کیف کی حمایت جاری رکھنا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں نے ابھی ان کی تعداد پر اتفاق نہیں کیا، لیکن کچھ ضرور بھیجے جائیں گے کیونکہ انہیں تحفظ کی ضرورت ہے۔ مگر یہ بات طے ہے کہ یورپی یونین اس کی ادائیگی کرے گی — ہم کچھ ادا نہیں کریں گے، مگر ہتھیار بھیجیں گے۔
یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔
قبل ازیں 11 جولائی کو صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ یوکرین کو فراہم کیے جانے والے امریکی ہتھیاروں کی مکمل لاگت نیٹو ادا کرے گا۔ یہ ٹرمپ کی صدارت کے حالیہ دور میں پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے اس سطح پر یوکرین کی عسکری مدد کا اعلان کیا ہے، جو واشنگٹن کی نئی پالیسی سمت کی عکاسی کرتا ہے۔
ٹرمپ حکومت کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس کے خلاف امریکی مؤقف میں شدت دیکھنے میں آ رہی ہے۔
روزنامہ "واشنگٹن پوسٹ” کے مطابق، صدر ٹرمپ نے 14 جولائی کو یوکرین کے لیے نئی فوجی امداد کا اعلان کیا، جس میں ممکنہ طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ATACMS میزائل بھی شامل ہوں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن 18 عدد ATACMS میزائل کی یوکرین کو منتقلی کی منظوری دے سکتا ہے، جو کہ اس وقت یوکرینی قبضے میں موجود ہیں، اور یہ فیصلے امریکی فوجی امداد کے مسلسل سلسلے کا حصہ ہوں گے۔

