جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ-انڈونیشیا ڈیل: 19٪ ٹیرف، بوئنگ خریداری، 20 ارب کی برآمدات

ٹرمپ-انڈونیشیا ڈیل: 19٪ ٹیرف، بوئنگ خریداری، 20 ارب کی برآمدات
ٹ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈونیشیا کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت انڈونیشی مصنوعات پر امریکہ میں 19 فیصد درآمدی محصول عائد کیا جائے گا—یہ شرح اُس 32 فیصد کی نسبت کم ہے جو ٹرمپ نے ابتدائی طور پر تجویز کی تھی۔

اس کے بدلے میں، انڈونیشیا نے امریکہ سے 50 بوئنگ طیارے، 15 ارب ڈالر کے توانائی کے مصنوعات، اور 4.5 ارب ڈالر کی زرعی اجناس خریدنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

یہ معاہدہ صدر ٹرمپ اور انڈونیشی صدر پرابوو سوبیانتو کے درمیان بات چیت کے بعد طے پایا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ اُن کی اُس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنا اور زیادہ "منصفانہ” شرائط پر معاہدے حاصل کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ 19 فیصد ادا کریں گے، اور ہم کچھ بھی نہیں۔ ہمیں انڈونیشیا تک مکمل رسائی حاصل ہوگی، اور ایسے کئی معاہدے جلد سامنے آئیں گے۔

بعد ازاں، ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر بھی اس معاہدے کی تفصیلات دہراتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا نے 15 ارب ڈالر کی امریکی توانائی، 4.5 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات، اور 50 بوئنگ طیارے—جن میں سے بیشتر 777 ماڈل ہوں گے—خریدنے کا عہد کیا ہے۔ تاہم اُنہوں نے ان خریداریوں کے لیے کوئی وقت کا تعین نہیں کیا۔

اگرچہ انڈونیشیا امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار نہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ 2024 میں دوطرفہ تجارتی حجم تقریباً 40 ارب ڈالر رہا، جس میں امریکی برآمدات میں 3.7 فیصد اور درآمدات میں 4.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا، اور امریکہ کو انڈونیشیا کے ساتھ 18 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا۔

یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی عالمی ٹیرف مہم کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اپریل میں، ٹرمپ نے تقریباً تمام تجارتی شراکت داروں پر 10 فیصد درآمدی محصولات عائد کیے تھے اور انڈونیشیا سمیت درجنوں معیشتوں کے لیے مزید اضافی محصولات کی تنبیہ کی تھی۔ ان نئے نرخوں کا نفاذ 9 جولائی سے مؤخر کر کے اب 1 اگست تک کر دیا گیا ہے، اور ٹرمپ 20 سے زائد ممالک کو باقاعدہ خطوط کے ذریعے اُن کی متوقع شرحیں ارسال کر چکے ہیں۔

انڈونیشیا کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے میں خاص طور پر واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی درآمدی سامان ٹیرف سے بچنے کے لیے دوسرے ممالک کے ذریعے منتقل کیا گیا (transshipment)، تو اُس پر مزید سخت محصول عائد ہوگا۔

ٹرمپ حکومت اسی نوعیت کے معاہدے بھارت، یورپی یونین، برطانیہ اور ویتنام کے ساتھ بھی کر چکی ہے۔ چین کے ساتھ بھی جوابی محصولات میں وقتی نرمی کی گئی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے ویتنام کے ساتھ ایک ابتدائی معاہدے کا اعلان کیا، جس کے تحت ویتنامی مصنوعات پر متوقع 46 فیصد ٹیرف کو گھٹا کر 20 فیصد کر دیا گیا—ایک غیر متوقع اقدام جس نے ویتنامی حکام کو حیرت میں ڈال دیا۔

اس معاہدے کے باوجود، بوئنگ کمپنی کے حصص میں معمولی کمی واقع ہوئی اور اسٹاک مارکیٹ میں اس کے شیئرز 0.2 فیصد نیچے بند ہوئے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین