جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ میں امداد کے متلاشی 798 فلسطینی شہید: اقوامِ متحدہ

غزہ میں امداد کے متلاشی 798 فلسطینی شہید: اقوامِ متحدہ
غ

جنیوا (مشرق نامہ)– اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے غزہ میں امدادی مراکز پر فلسطینیوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ترجمان رویِنا شمداسانی کے مطابق، 27 مئی سے 7 جولائی کے درمیان کم از کم 798 فلسطینی اس وقت شہید ہوئے جب وہ خوراک کے حصول کی کوشش کر رہے تھے۔

شمداسانی نے بتایا کہ ان میں سے 615 افراد کو غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے امدادی مراکز کے قریب نشانہ بنایا گیا، جب کہ 183 فلسطینی انسانی ہمدردی کے قافلوں کے راستوں میں شہید ہوئے۔ بیشتر شہداء کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

انہوں نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتِ حال ناقابلِ قبول ہے — اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ لوگ مجبور ہو چکے ہیں کہ یا تو گولی کھائیں یا خوراک حاصل کریں۔

شمداسانی نے اس بات کی تصدیق کی کہ اُن کا دفتر دیر البلح میں ایک حالیہ “اسرائیلی” فضائی حملے کی تحقیقات کر رہا ہے، جس میں کم از کم 15 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ حملہ پراجیکٹ ہوپ کے کلینک کے سامنے ہوا — جو اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف سے منسلک ایک تنظیم ہے۔

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے امداد حاصل کرنے والے خاندانوں کو نشانہ بنانے کو
“ناقابلِ فہم اور بے حسی کی انتہا” قرار دیا۔

جب ان حملوں کے جواز کے بارے میں سوال کیا گیا تو شمداسانی نے بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، خصوصاً “تمییز اور تناسب کے اصولوں” کی پامالی پر۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے ترجمان کرسچن لنڈمیئر نے بھی جاری تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس اب الفاظ ختم ہو چکے ہیں، یہ سب کچھ ناقابلِ تصور حدوں سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔

لنڈمیئر نے 75,000 لیٹر ایندھن کی ایک غیر معمولی ترسیل کا خیرمقدم کیا — جو 130 دن سے زائد عرصے میں پہلی بار غزہ پہنچی — مگر خبردار کیا کہ یہ امداد مستقل ہونی چاہیے تاکہ اسپتال، ایمبولینسیں، واٹر پلانٹس اور بیکریاں فعال رہ سکیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ 94 فیصد غزہ کے اسپتال یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا شدید متاثر ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو بے حد تنگ اور خطرناک علاقوں میں پناہ لینا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے جنگ بندی مذاکرات میں پیش رفت کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امن ہی سب سے بہتر دوا ہے، اور امداد کے دروازے کھولنا ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

متعدد تحقیقات اور عینی شاہدین کے بیانات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ قابض فورسز نے دانستہ طور پر ان فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جو غزہ میں امدادی مراکز کے قریب جمع ہو رہے تھے۔

صہیونی اخبار ہارٹز (Haaretz) کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی قابض فوج (IOF) کو باقاعدہ احکامات دیے گئے تھے کہ وہ غیر مسلح فلسطینیوں کو امدادی مراکز کے قریب گولی ماریں — حتیٰ کہ ان مراکز کے کھلنے سے پہلے یا اُس وقت بھی جب کوئی خطرہ موجود نہ ہو۔

اسی طرح، ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کی ایک علیحدہ تفتیش، جو GHF مراکز پر موجود امریکی کنٹریکٹرز کی مدد سے کی گئی، میں انکشاف ہوا کہ فلسطینیوں کے خلاف براہِ راست گولیاں، اسٹن گرینیڈز اور مرچوں والا اسپرے مستقل استعمال کیا جاتا رہا۔ ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ قابض فورسز غیر مسلح فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے بعد جشن مناتی رہیں، جب کہ کنٹریکٹرز نے اس سلوک کو بلاجواز اور اندھا دھند تشدد قرار دیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین