امریکی و صہیونی سائبر حملوں کے تناظر میں ڈیجیٹل دفاع مضبوط بنانے پر زور
تہران (مشرق نامہ)– ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پَزشکیان نے ملک کی قومی ڈیٹا سیکیورٹی اور سائبر دفاعی حکمتِ عملی کا ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے ایران کی ڈیجیٹل حکمرانی کا ایک کلیدی ستون قرار دیا ہے۔
منگل کے روز سپریم سائبر اسپیس کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پَزشکیان نے موجودہ حالات کو "انتہائی حساس” قرار دیا اور ملکی سائبر ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ سائبر اہداف کے حصول میں پیش رفت کی پیمائش اور نفاذ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کے لیے ایک جامع جائزہ ناگزیر ہے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ہمیں اپنی ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی مزاحمتی صلاحیت کو مستحکم کرنا ہوگا۔
اُنہوں نے کونسل کے سیکرٹریٹ کو ہدایت کی کہ سائبر دفاعی پروٹوکول کو مسلسل نظرثانی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا جائے۔ انہوں نے موجودہ خلا پُر کرنے اور قومی ڈیٹا سسٹمز کو زیادہ مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اجلاس کے دوران نیشنل سائبر اسپیس سینٹر کے سیکیورٹی وِنگ نے حالیہ سائبر خطرات اور ان کے مقابلے میں ایرانی دفاعی نظام کی کامیابیوں پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ صدر پَزشکیان نے ہدایت کی کہ سائبر سیکیورٹی فریم ورک کی ازسرِنو تشکیل کے عمل کو تیز کیا جائے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور قابض صہیونی حکومت کی جانب سے مربوط سائبر حملوں اور جنگی اقدامات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خصوصاً اُس 12 روزہ تنازع کے دوران جو گزشتہ ماہ “اسرائیل” نے اچانک شروع کیا تھا۔
13 جون کو صہیونی حکومت نے ایران پر غیر علانیہ جنگ مسلط کر دی، جس میں ایرانی فوجی کمانڈرز، ایٹمی سائنسدانوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک ہفتے بعد امریکہ نے تین ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کر کے اس کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا — یہ اقدامات اقوامِ متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی کھلی خلاف ورزی تھے۔
جنگ کے آغاز پر صہیونی سائبر فورسز نے ایران کے بینکاری نظام اور سرکاری ٹیلی وژن پر شدید سائبر حملے کیے، جن کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے قابض علاقوں میں کئی اسٹریٹیجک مقامات پر جوابی حملے کیے، جن میں بئر السبع بھی شامل ہے — جو صہیونی سائبر وارفیئر کا مرکزی اعصابی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
صہیونی میڈیا کے مطابق، ایران کا ایک میزائل صہیونی حکومت کے پرت در پرت فضائی دفاعی نظام کو چیرتا ہوا ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوا، جس سے اُس کے انٹرسیپشن سسٹمز میں سنگین خامیاں آشکار ہوئیں۔
یہ مختصر مگر شدید جنگ 24 جون کو اس وقت اختتام کو پہنچی جب ایران نے وسیع پیمانے پر جوابی حملے کر کے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔
صدر پَزشکیان کی جانب سے سائبر سیکیورٹی پر تازہ زور اس جانب اشارہ ہے کہ ایران مستقبل کی ہائبرڈ جنگوں کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے اور خود کو نہ صرف روایتی بلکہ ڈیجیٹل خطرات سے بھی محفوظ رکھنے کے لیے حکمتِ عملی ترتیب دے رہا ہے۔

